تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 129

مسیح کا کلام بہت تھوڑا ہے اور خدا تعالیٰ کا کلام تو اس میں کوئی ہے ہی نہیں ہاں مسیح کی زبانی چند فقرات خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ملتے ہیں۔پس حقیقتاً خدا تعالیٰ کا الہام خواہ اس کے الفاظ میں ہو یا مسیح کے الفاظ میں انا جیل میں بہت کم ہے۔ہاں تاریخی واقعات پر یہ کتاب مشتمل ہے جو کسی صورت میں الہام نہیں کہلا سکتے بلکہ صرف بعض مؤرخوں کا نقطہ نگاہ ہے مگر اسی پربس نہیں ان اناجیل میں بھی کہ جو عہد نامہ جدید میں شامل کی گئی ہیں (۱) شدید اختلاف ہے اور (۲) اس کے مختلف زمانوں کے ترجموں میں بھی باہم شدید اختلاف ہے۔انجیل کے بعض اندرونی اختلافات پہلے دعویٰ کی تائید میں مندرجہ ذیل مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔متی باب ۱۰ آیت ۹و ۱۰ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑنے حواریوں کو یہ نصیحت کی کہ ’‘نہ سونا، نہ روپا، نہ تانبا اپنے کمر بندوں میں رکھو راستے کے لئے نہ جھولی نہ دو کرتے نہ جوتیاں نہ لاٹھی لو‘‘ لیکن مرقس باب ۶ میں حضرت مسیح کی نصیحت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ’’اور حکم کیا کہ سفر کے لیے سوالاٹھی کے کچھ نہ لو نہ جھولی، نہ روٹی، نہ اپنے کمر بند میں پیسے۔مگر جوتیاں پہنو پردو کرتے مت پہنو‘‘ (آیت ۸و۹) یہ کیسا صریح اختلاف ہے۔متی کا بیان ہے کہ مسیح نے کہا نہ جوتی لو نہ لاٹھی لو۔مرقس کہتا ہے کہ مسیح نے یوں کہا کہ لاٹھی کے سوا کچھ نہ لو ہاں جوتی ضرور پہنو۔اسی طرح متی باب ۲۷ آیت ۴۴ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح کو صلیب کے موقع پر ان کے دو نو مصلوب ساتھیوں نے ملامت کی اور طعنے دئے۔مرقس باب ۱۵ آیت ۳۲ میں بھی اس کی تائید ہے لیکن لوقا باب ۲۳آیت ۳۹و ۴۰ میں لکھا ہے کہ ان چوروں میں سے جو اس کے ساتھ صلیب دیئے گئے ایک نے اُسے طعنہ دیا لیکن دوسرے نے نہ صرف یہ کہ طعنہ نہیں دیا بلکہ طعنہ دینے والے کو ملامت کی۔چنانچہ لکھا ہے کہ ان دو صلیب والوں میں سے ایک چور نے مسیح سے کہا ’’کہ اگر تو مسیح ہے تو آپ کو اور ہم کو بچا۔دوسرے نے اُسے ملامت کر کے جواب دیا۔کیا تو بھی خدا سے نہیں ڈرتا جس حال کہ اِسی سزا میں گرفتار ہے۔‘‘ پھر آگے لکھا ہے ’’اور اُس نے یسوع سے کہا اے خداوند جب تو اپنی بادشاہت میں آوے مجھے یاد کیجیئو‘‘ (آیت ۴۲) اس پر یسوع نے اُسے کہا کہ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ آج تو میرے ساتھ بہشت میں ہو گا‘‘ (آیت ۴۳) اسی طرح مرقس باب ۱۵آیت ۲۵میں لکھا ہے کہ مسیح کو صلیب تیسرے گھنٹے میں دی گئی۔لیکن یوحنا باب۱۹ آیت ۱۴ میں لکھا ہے کہ چھٹی گھڑی تک ابھی مسیح پیلا طوس کی کچہری میں موجود تھا۔اسی طرح متی باب۲۷ آیت ۵میں لکھا ہے کہ یہوداہ اسکر یوطی جس نے مسیح علیہ السلام کو پکڑ وایا تھا۔اُس نے پھانسی کے ذریعہ خود کشی کر لی لیکن اعمال باب۱ آیت۱۸ میں لکھا ہے کہ وہ اوندھے منہ گر گیا اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اس کی ساری انتڑیاں نکل گئیں۔اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب دیئے جانے کے دوسرے دن کے متعلق اناجیل میں عجیب و غریب