تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 123
جو لوگ عربی زبان سے ناواقف ہونے کے باوجود قرآن کریم پر اعتراض کرنے میں جلدی کرتے ہیں انہوں نے اس جملہ کے صرف یہی معنے کئے ہیں اور پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن کریم نے یہ دعویٰ کر کے کہ اس میں کوئی شک نہیں گویا خود اپنے مشکوک ہونے کا اعتراف کیا ہے کیونکہ جب دل میں چور نہ ہو تو انسان کو یہ خیال ہی نہیں ہو سکتا کہ لوگ مجھ پر جھوٹا ہونے کا الزام لگائیں گے (ویری بحوالہ رومن قرآن) اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس نادان معترض کو یہ بھی معلوم نہیں کہ سورۂ بقرہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی وحی نہیں ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اپنے دل کے خدشہ کی وجہ سے شک کی نفی کی گئی ہے بلکہ یہ سورۃ تو مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ قرآن کریم کو نازل ہوتے ہوئے تیرہ سال سے زائد گزر چکے تھے اور اس عرصہ میں کفار ہزاروں شبہات قرآنِ کریم کے بارہ میں پیش کر چکے تھے۔پس اس قدر عرصہ تک دشمنوں کے اعتراضات لینے کے بعد بھی اگر قرآن کریم کا حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ اس میں کوئی شک کی بات نہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جو سچا ہو اُسے کبھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ سچا ہے ورنہ اس کی سچائی میں شک پڑ جائے گا۔یہ دعویٰ بالبداہت باطل ہے اور کبھی کسی عقلمند نے اسے قبول نہیں کیا نہ کبھی کسی صادق نے اس پر عمل کیا ہے اور یہ نکتہ صرف رومن قرآن کے مصنف کے ہی ذہن میں آیا ہے اور ریورنڈویری ہی ایک ایسے شخص ہیں جن کو اس خلافِ عقل دعویٰ کی تصدیق کی توفیق ملی ہے۔بائبل میںلَارَیْبَ فِیْہِ کے ہم معنی محاورات کا استعمال مگر افسوس ہے کہ ان دونوں پادریوں کو خود اپنی مذہبی کتب پر غور سے مطالعہ کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔اگر وہ اپنی مذہبی کتب کا غور سے مطالعہ کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ یہ اعتراض قرآن کریم کی صداقت کے خلاف نہیں کر رہے بلکہ خود اپنی کتب کے خلاف کر رہے ہیں چنانچہ مندرجہ ذیل حوالے جو بہت سے حوالوں میں سے چند ہیں ثابت کرتے ہیں کہ بالکل اس قسم کے محاورات بائبل میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ا مثال ۸؍۸ ’’میرے منہ کی ساری باتیں صداقت سے ہیں ان میں کچھ ٹیڑھا ترچھا نہیں۔‘‘ یسعیاہ ۱۹؍۴۵ ’’میں خداوند سچ کہتا ہوں اور راستی کی باتیں فرماتا ہوں۔‘‘ تمطاؤس ۹؍۴ ’’یہ بات سچ اور کمال قبولیت کے لائق ہے۔‘‘ طِطُس ۸؍۳ ’’یہ بات سچ ہے۔‘‘ مکاشفات ۵؍۲۱، ۶؍۲۲ ’’یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔‘‘ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ اپنی سچائی پر زور دینے کے لئے عہد نامہ قدیم اور جدید دونوں نے بالکل قرآن کریم کے مشابہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔اور اگر اس قسم کے محاوروں کے استعمال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قائل اپنی سچائی کی نسبت شبہ رکھتا ہے تو یہ شبہ بہت زیادہ مصنفین عہد نامہ قدیم اور جدید کے دل میں پایا جاتا تھا۔مگر حق یہ ہے