تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 122
شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ (ہود:۱۰۹) یعنی جو لوگ سعید اور نیک ہوںگے وہ جنت میں جائیں گے۔اس میں جنت کے آسمان زمین کے قیام تک اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع رہتے چلے جائیں گے۔پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیّت کا فیصلہ بھی کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ان کو کبھی جنت سے نہیں نکالے گا اور اُن کو ایسا انعام بخشے گا جو کبھی بند نہ ہو گا۔اس آیت سے انسانی فطرت کے اس حق کو جو دائمی نجات کے متعلق ہے اور جسے آریہ صاحبان نے تناسخ کے عقیدہ سے باطل کر دیا ہے، قائم کر دیا گیا ہے۔خلاصہ یہ کہ تمام اہم امور جو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے متعلق جو جو تہمتیں مختلف مذاہب کے پیرؤوں یا فلاسفروں نے لگائی تھیں اسلام نے ان کو دُور کیا ہے اور ہر اک تہمت سے خدا تعالیٰ کو ،ملائکہ کو، کلام الٰہی کو، انبیاء کو اور فطرتِ انسانی کو بری کیا ہے اور یہ ایسی خوبی ہے جو اور کسی کتاب میں اس کی موجودہ حالت میں نہیں پائی جاتی اور صرف قرآن کریم ہی ہے جو سب تہمتوں سے ان مبارک وجودوں اور اصولوں کو پاک کرتا ہے جو مذہب کے لئے بمنزلہ ستون کے ہیں اور یہ ایسا امر ہے کہ اگر قرآن کریم اس کے سوا اور کوئی کام نہ بھی کرتا تو صرف یہی کام دوسرے ادیان کی موجودگی کے باوجود اس کی ضرورت کو ثابت کرنے کے لیے کافی تھا۔قرآن مجید کی نجات کی ضامن بےنظیر تعلیم ظاہر ہے کہ جس کے دل میں خدا تعالیٰ کی نسبت بدظنی ہو گی اور وہ اس کی طاقتوں کے بارہ میں شک میں ہو گا وہ اس سے کامل تعلق پیدا کر کے اس کی بے پایاں رحمت سے فائدہ نہیں اُٹھا سکے گا اور جو ملائکہ کی نسبت بدظن ہو گا وہ ملائکہ سے تعلق جوڑ کر ان کی پاکیزہ تحریکوں سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا اور جو انبیاء سے یا اُن میں سے کسی سے بدظن ہو گا وہ ان کے اعلیٰ نمونہ سے فائدہ نہ اُٹھا سکے گا۔اور جو کلامِ الٰہی کے متعلق شبہ میں ہو گا وہ اس کی پاک کرنے والی تاثیرات سے محروم رہے گا۔اور جو انسانی فطرت سے بدظن ہو گا وہ اپنے نفس کو پاک کرنے کی جدوجہد میں اس عزم اور ارادہ سے محروم رہے گا جو پاکیزگی کے حصول کے لئے ضروری ہے۔پس لَارَیْبَ فِیْہِ کے مطابق تعلیم دے کر قرآن کریم نے انسان کو نیکی کے سر چشموں سے فائدہ اٹھانے، نیک نمونوں کو خضرِ راہ بنانے اور نہ ٹوٹنے والی امید کو اپنے دل میں جگہ دینے کی ایک ایسی راہ کھول دی ہے جو اس کی نجات کی ضامن اور اس کی کامیابی کی کفیل ہو جاتی ہے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے رَیْب کے دوسرے معنے شک کے ہیں۔پس لَارَیْبَ فِیْہِ کے یہ معنے بھی ہیں کہ قرآن کریم کی صداقت کا ایک مزید ثبوت اور اس کی ضرورت حقہّ کا ایک زبردست گواہ یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک نہیں۔