تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 121

انتظار کرتا رہا۔‘‘ بائبل کی تفسیر میں جو متھیو پول(MATTHEW POOL )کی تصنیف شدہ ہے قید سے مراد دوزخ لیا گیا ہے۔(تفسیر بائبل مصنفہ متھیوپول جلد ۳ صفحہ ۹۱۱) انسانی وجود پر بعض مذاہب کے لگائے ہوئے الزام اور قرآن مجید میں ان کا ردّ پانچواںستون مذہب کا خود انسان کا وجود ہے کیونکہ وہ مہبط ِ وحی ہے۔اس ستون کو بھی بعض مذاہب نے گرانے کی کوشش کی ہے۔مثلاً مسیحی مذہب کہتا ہے کہ انسانی روح آدم علیہ السلام کے گناہ کی وجہ سے گنہگار ہو گئی ہے او رانسان طبعاً میلان گناہ رکھتا ہے۔رومیوں باب ۵ آیت ۱۲ میں لکھا ہے۔’’پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سب نے گناہ کیا۔‘‘ او رہندو مذہب بھی ظاہر کرتا ہے کہ گویا انسان تمام کوششوں کے باوجود پاک نہیں ہو سکتا اور بار بار ُجونوں میں ڈالا جاتا ہے۔(ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند جی بانی آریہ سماج ب ۹) فطرت انسانی سب عیوب سے پاک کی گئی ہے قرآن کریم نے ان مذاہب کے برخلاف انسانی فطرت کی براء ت کی ہے اور وہ فرماتا ہے۔وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۔فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۔وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا(الشّمس:۸تا۱۱) یعنی ہم نفسِ انسانی کو بطور شہادت کے پیش کرتے ہیں کہ اسے ہم نے سب عیوب سے پاک پیدا کیا ہے اور اس کی فطرت میں نیکی اور بدی کے پہچاننے کی طاقت رکھی ہے۔چنانچہ جو شخص اپنی روح کو بیرونی ملونیوں سے پاک رکھتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو شخص اس کی جبلیّ پاکیزگی کو دنیاوی آلائشوں سے گدلا کر دیتا ہے اور اسے اس کے اعلیٰ مقام سے نیچے گرا دیتا ہے وہ ناکام ہو جاتا ہے یعنی انسانی روح اصل میں پاکیزگی لے کر آتی ہے اور بعد میں لوگ اُسے گندہ کر دیتے ہیں۔یہ نہیں کہ آدم یا کسی اور کے گناہ کی وجہ سے وہ ناپاک ہو گئی ہے۔قرآن مجید میں تناسخ کا ردّ اسی طرح تناسخ کے چکر کا اس طرح ردّ کرتا ہے کہ اَلَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(النّحل:۲۹) یعنی وہ لوگ جن کی جان فرشتے اس حالت میں نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں فرشتے اُن سے کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دائمی سلامتی تم کو ملے گی (سلام کا لفظ جو اسم ہے دائمی سلامتی پر دلالت کرتا ہے) جائو اور اپنے اعمال کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہو جائو۔اسی طرح فرماتا ہے کہ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ سُعِدُوْا فَفِي الْجَنَّةِ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا