تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 120

پیدائش کے متعلق فرماتا ہے وَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰيَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء :۹۲) یعنی مریم جو حضرت عیسیٰ کی والدہ تھیں انہو ںنے اپنے تمام سوراخوں کو گناہ سے محفوظ رکھا تھا اور ان کو جو حمل ہوا تھا وہ ناپاک اور شیطانی روح کا نہ تھا بلکہ ایک پاک روح جو ہماری طرف سے تھی ان کے اندر داخل ہوئی تھی اور ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے عیسیٰ کو دنیا کے لیے ایک نشان بنایا تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے شیطان سے تعلق کے ازالہ کیلئے فرماتا ہے۔وَ اٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَ اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرة:۸۸) یعنی ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلے کھلے نشانات عطا فرمائے تھے اور اس کو روح القدس یعنی پاک الہام لانے والے فرشتے سے مدد دی تھی یعنی اُن کا الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور فرشتے اس پر نازل ہوتے تھے شیطان سے اُن کا تعلق نہ تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام کے اپنے متبعین نے بھی ایک شدید الزام اُن پر لگایا تھا کہ وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ صلیب پر مر گئے تھے حالانکہ صلیبی موت تورات کے مطابق لعنتی موت ہوتی ہے۔چنانچہ عہد نامہ جدید میں لکھا ہے۔’’مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا۔اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے‘‘ (گلتیوں باب۳ آیت۱۳) قرآن کریم اس الزام کو بھی ردّ فرماتا ہے چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی فرماتا ہے وَ السَّلٰمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُّ وَ يَوْمَ اَمُوْتُ وَ يَوْمَ اُبْعَثُ حَيًّا (مریم :۳۴) یعنی جو لوگ مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ گویا میری پیدائش حرام کاری کے نتیجہ میں تھی وہ بھی غلط کہتے ہیں کیونکہ میری پیدائش پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوئی تھی۔اور جو لوگ کہیں گے کہ میں صلیب پر لٹکایا جا کر لعنتی موت مرا ہوں وہ بھی غلطی کریں گے کیونکہ میری موت بھی خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہو گی اور لعنت کی موت سے مَیں بچایا جائوں گا۔اور جو لوگ یہ کہیں گے کہ میں دوسروں کے گناہ اٹھا کر ( نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ) تین دن سزا بھگتوں گا وہ بھی غلطی کریں گے کیونکہ میرا بَعْث بَعْدَ الْمَوت بھی خدا تعالیٰ کی سلامتی سے شروع ہو گا۔حضرت مسیح کا مسیحیوں کی مزعومہ صلیبی موت کے بعد دوزخ میں جانا اور گویا اُن کی موت کی لعنت کے اثر کے نیچے ہونا انجیل نقودیمس کے باب ۲۱ سے ثابت ہے۔نیز۱۔پطرس باب ۳ آیت۱۸ تا ۲۰ میں لکھا ہے۔’’کیونکہ مسیح نے بھی ایک بار گناہو ںکے واسطے دکھ اٹھایا یعنی راستباز نے ناراستوں کے لئے۔تاکہ وہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے۔کہ وہ جسم کے حق میں تو مارا گیا لیکن روح میں زندہ کیا گیا جس میں ہو کے اس نے ان روحوں کے پاس جو قید تھیں جا کے منادی کی جو آگے نافرمانبردار تھیں۔جس وقت کہ خدا کا صبر نوح کے دنو ںمیں جب کشتی تیار ہوتی تھی