تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 119

تورات ہی مبروص کو ناپاک قرار دیتی ہے (احبار باب ۱۳ آیت ۹تا۱۱) اور برص ایک گھنائونی مرض ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہتَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ(طٰہٰ :۲۳) یعنی ہاتھ کے سفید ہونے کا معجزہ کسی بیماری سے مشابہ نہ ہو گا بلکہ معجزانہ رنگ میں ہاتھ میں چمک پیدا ہو گی۔قرآن مجید میں ہارون علیہ السلام کی ذات پر لگائے ہوئے الزام کی تردید تورات میں کہا گیا تھا کہ ہارون نے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک بنی اسرائیل کو بچھڑا بنا کر دیا اور شرک کی راہ پر چلایا لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ يٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ وَ اَطِيْعُوْۤا اَمْرِيْ (طٰہٰ :۹۱) یعنی موسیٰ کے پہاڑ سے واپس آنے سے پہلے حضرت ہارونؑ بھی اپنی قوم کو شرک سے روکتے رہے تھے اور اُن سے کہتے تھے کہ اے قوم !اس بچھڑے کے ذریعہ سے تمہارا ایمان خراب کیا گیا ہے اور تمہارا رب تو رحمن ہے یہ بے حقیقت بچھڑا رب کس طرح ہو سکتا ہے؟ پس تم میری فرمانبرداری کرو اور میرے حکم پر چلو۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہارون شرک کرانے والوں میں سے نہ تھے بلکہ شرک کے روکنے والوں میں سے تھے۔حضرت سلیمان پر یہود شرک کا الزام لگاتے ہیں اور گنہگار قرار دیتے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے’’جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اس کی جورئووں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا۔‘‘ (۱ـ۔سلاطین باب ۱۱ آیت ۴) قرآن کریم اس الزام کو بھی ردّ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ وَ مَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا (البقرۃ:۱۰۳) یعنی سلیمان نے کوئی کفر والی بات نہیں کی بلکہ اس کا انکار کرنے والے اور اس پر الزام لگانے والے کافر تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام پر یہودیوں کے لگائے ہوئے الزام کی تردید قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہود نے الزام لگایا تھا کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکُ اُن کی پیدائش بدکاری کے نتیجہ میں تھی اور یہ کہ وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک یوسف کے نطفہ سے بغیر شادی کے پیدا ہوئے تھے (انسائیکلوپیڈیابرٹینکاجلد۵ صفحہ ۱۰۲ زیر لفظ CELSUS نیز دیکھو ُجوئش لائف آف کرائسٹ زیر لفظ Jesus) اسی طرح بعض یہودی یہ الزام لگاتے تھے کہ وہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکُ ایک رومی سپاہی پینتھرا PENTHERA کے بیٹے تھے جن کا ناجائز تعلق حضرت مریم صدیقہ سے تھا (جوئش انسائیکلو پیڈیا جلد ۷ صفحہ ۱۷۰ کالم اوّل) اسی طرح یہود کا یہ اعتراض تھا کہ انہیں شیطانی الہام ہوتا تھا اور ان کا تعلق بَعْل سے تھا جس کے معنے اُن کے محاورہ میںشیطان کے تھے۔چنانچہ لکھا اور فقیہ جو یروشلم سے آئے تھے کہتے تھے کہ اس کے ساتھ بَعْل زَبُول کا تعلق ہے اور یہ بھی کہ وہ بدروحوں کے سردار کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے (مرقس باب ۳ آیت ۲۲) قرآن کریم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو ان سب تہمتوں سے پاک قرار دیا ہے۔اُن کی