تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 118
جن انبیاء کا ذکر خاص مصالح کے ماتحت اور فوائد جلیلہ کے لئے قرآن کریم نے نام لے کر کیا ہے اُن کی شان کو قرآن کریم نے خاص طو رپر ذکر کیا ہے اور ان پر لگائے ہوئے اتہامات کو خاص طور پر ردّ کیا ہے۔مثلاً بائبل کہتی ہے کہ آدم نے گناہ کیا اور دیدہ دانستہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا (طٰہٰ:۱۱۶) یعنی اے محمد رسول اللہ! تجھ سے پہلے ہم نے آدم کو بھی بعض امور شریعت سے اطلاع دی تھی مگر ایک موقع پر وہ ایک حکم کے بارہ میں بھول گیا مگر اس کا ارادہ ہماری نافرمانی کرنے کا نہ تھا۔یعنی آدم سے جو غلطی ہوئی تھی وہ بھول چوک کی قسم سے تھی جو گناہ نہیں کہلاتی اور دل کی تاریکی پر دلالت نہیں کرتی۔اسی طرح بائبل میں لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْہُ بعض مواقع پر جھوٹ بولا۔مسلمانوں کی ایک جماعت نے بھی بعض احادیث سے دھوکا کھا کر اسی قسم کا عقیدہ بنا رکھا ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى (النّجم:۳۸) یعنی ابراہیم نے جو وعدہ اللہ تعالیٰ سے کیا تھا اُسے کامل طورپر پورا کر دیا۔یعنی تمام اخلاق حسنہ کا اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ دکھایا۔کیا عدل اور کیا احسان اور کیا عفو اور کیا ستاری اور کیا رأفت اور کیا شفقت علیٰ خلق اللہ اور کیا سچائی اور کیا معاملہ کی صحت۔ہر ایک حکم جو خدا کی طرف سے اُسے دیا گیا تھا اُسے اُس نے پورا کیا اور معمولی طورپر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ نمونہ احکام الٰہی کے پورا کرنے میں دکھایا۔تورات میں موسیٰ علیہ السلام پر دو الزام اور قرآن مجید میں ان کا ردّ بعض لوگوں نے کہا تھا کہ موسیٰ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے مصریوں سے دھوکا سے اُن کے زیور مانگ لئے (خروج ب ۱۱ آیت ۲) اور پھر ان کو لے کر مصر سے بھاگ گئے مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِيْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا (طٰہٰ:۸۸) یعنی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہاڑ پر جانے کے بعد اُن کی قوم کے ایک حصہ نے شرک کیا اور حضرت موسیٰ نے آ کر اُن پر ناراضگی کا اظہار کیا تو اُن کی قوم نے جواب دیا کہ ہم نے اپنی مرضی سے یہ کام نہیں کیا بلکہ سامری کے ورغلانے سے کیا ہے۔اور بات یُوں ہوئی ہے کہ مصری قوم کے زیورات جو ہمیں زبردستی دے دیئے گئے تھے ہم اُنہیں اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتے تھے سامری کے کہنے پر ہم نے وہ زیورات اُسے دےدیئے۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے تو الگ رہا بنی اسرائیل نے خود اپنے ارادہ سے بھی مصریوں کو دھوکا دینا نہ چاہا تھا بلکہ مصریوں نے خود ہی عذابوں سے گھبرا کر بنی اسرائیل کو اپنے زیورات دئے تھے تاکہ کسی طرح وہ چلے جائیں اور ان سے مصریوں کا پیچھا چھوٹے اور یہ کہ ان زیورات کو اپنے پاس رکھنے کی بنی اسرائیل کو بالکل کوئی خواہش نہ تھی۔تورات میں کہا گیا تھا کہ موسیٰ کا ہاتھ معجزہ کی وجہ سے مبروص ہو گیا تھا (خروج باب ۴ آیت ۶) حالانکہ خود