تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 117

کے سامنے پیش کرتے ہیں تو گنہگار لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی براہ ِراست وہی نعمت ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملی ہے تب ہم ایمان لائیں گے۔یہ لو گ اپنے اعمال کو نہیں دیکھتے۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنا پاکیزہ کلام کس طرح نازل کر سکتا ہے جبکہ یہ گنہگار اور مجرم ہیں۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا بارکس پر رکھے یعنی اُسی کو یہ خلعت دیتا ہے جو پاکباز اور نیکوکار ہو مجرم نہ ہو۔پھر فرماتا ہے کہ یہ گنہگار لوگ انبیاء والے انعامات کے طالب ہیں حالانکہ گنہگاروںکو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے بدارادوں اور منصوبہ بازیوں کی وجہ سے ذلت اور سخت عذاب پہنچے گا۔اس آیت میں اصولی طو رپر انبیاء کی پاکیزہ زندگی اور اُن کے تقدس کی شہادت دی گئی ہے اور اس طرح ان تمام خیالات کی تردید کر دی گئی ہے جو اللہ کے انبیاء پر لگائے جاتے ہیں خواہ اُن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔جیسا کہ مثلاً کرشن جی علیہ السلام کے بارہ میں خود اُنہی کے متبع کہتے ہیں کہ وہ مکھن چرُایا کرتے تھے اور عورتوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول رہا کرتے تھے۔نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔چنانچہ ’’شریمد بھاگوت پرُ ان‘‘ اسگندھ نمبر۱۰ ۸؍۱۰ میں لکھا ہے کہ شری کرشن جی کی والدہ انہیں کہتی ہیں کہ ’’بیٹا نو لاکھ گائیں میرے یہاں دُودھ دینے والی ہیں جتنا دُودھ ماکھن چاہیے کھایا اور لٹایا کرو۔دوسروں کے گھر ماکھن کھانے اور چرانے مت جایا کرو۔‘‘ اسی طرح برہم وَیٔ ورت پوُران کرشن جنم کھنڈ صفحہ ۴ ادھیائے ۷۲ میں تحریر ہے کہ۔’’دن کے چھپنے پر اکرورجی اپنے گھر چلے گئے اور کرشن جی بھی کسی کے گھر چلے گئے۔نند اور بلدیو سمیت کرشن جی گوبند بھگت کے ہاں ٹھہرے بھگت نے سب کاستکار (عزّت) کیا جب سب پلنگوں پر سو گئے اور (مسماۃ) کبجا بھی سو گئی۔تب کرشن جی بھی کبجاکے گھر چلے گئے۔وہاں پر جا کر ُکبجا کو پلنگ پر سوئی ہوئی دیکھا۔کرشن جی نے داسیوں (لونڈیوں) کو نہیں جگایا صرف کبجاکو جگا لیا۔اس سے کرشن جی نے کہا اے سندری نیند کو چھوڑ کر مجھ کو شرنگار دان ( داد عیش) دے۔‘‘ اور اس عبارت کے بعد اور بہت کچھ خرافات ہیں جن کی نقل سے شرم و حیا اور حضرت کرشن کا ادب مانع ہے۔مگر یہ سب من گھڑت باتیں دوسرے لوگوں کی ہیں۔کرشن جی علیہ السلام ان باتوں سے پاک تھے۔جیسا کہ قرآن کریم سے اصولی طور پر سب ربانی مصلحین کی پاکیزگی کا ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح رام چندر جی کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ سیتا جی سے آخری عمر میں بلاوجہ ناراض ہو گئے اور قطع تعلق کیا۔(رامائن اتر کانڈ سرگ ۵۳)