تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 115

ایک ظلمت کا خدا۔بعض نے تین خدا تجویز کئے ہیں۔باپ۔بیٹا اور رُوح القدس۔بعض نے خدا تعالیٰ کے لئے بیویاں تجویز کی ہیں۔بعض نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس نے بعض ہستیوں کو پیدا کر کے اپنی صفات اُن میں بانٹ دی ہیں اور مختلف صفات کے ظہور کے لئے مختلف دیوتا مقرر کر دیئے ہیں۔بعض نے یہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ بندوں میں سے بعض کو چن کر اپنے اختیارات ُکل یا بعض اُن کو سونپ دیتا ہے۔بعض تمام بڑے مظاہر قدرت ِکو خدا تعالیٰ کی صفات کا بالارادہ ظاہر کرنے والا قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ مضر اشیاء اور خوف دلانے والے جانوروں کو دیوتا تجویز کرتے ہیں۔بعض مظاہرِ حسن کو خدا کا مظہر اور الوہیت کی صفت سے متصف قرار دیتے ہیں۔قرآن کریم نے ان تمام قسم کے شرکوں کو تفصیل سے ردّ کیا ہے۔اور ان عقائد کے غلط ہونے کے دلائل دیئے ہیں مگر اس مفصّل مضمون کو حوالوںکے ساتھ بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔اگلے کسی موقعہ پر ان آیات کے ماتحت ان کا ذکر آجائےگا جن میں توحید یا شرک کی تفصیلات کا ذکر ہے۔(انشاء اللہ) قرآن مجید کا اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق بیان اسی طرح قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو بالتّفصیل بیان کیا ہے جس کی مثال اور کسی کتاب میں نہیں ملتی اور اس طرح ان تمام اتہاموں سے جو مختلف صفات کے ناقص بیان سے یا ناقص طو رپر سمجھنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف مختلف مذاہب یا مختلف فلسفے منسوب کرتے چلے آئے ہیں اللہ تعالیٰ کو بری قرار دیا ہے۔غرض قرآن کریم کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے درجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جن امور کو اس کی طرف منسوب کرنے سے اس کی کسرِشان ہوتی ہے ان کو اس کی طرف منسوب کرنے سے قرآن کریم نے اجتناب کیا ہے بلکہ اُن کا بادلیل رد کیا ہے اور جن امور سے اس کی وہ شان جو ایک معبود اور کامل الصفات خدا تعالیٰ میں ہونی چاہیے ظاہر ہوتی ہے ان امو رکواس کی طرف منسوب کیا ہے اور نہایت بسط اور عمدگی سے اُن کا ذکر کیا ہے۔قرآن مجید میںملائکہ کے وجود کو جملہ نقائص سے پاک قرار دیئے جانے کی تعلیم اللہ تعالیٰ کے بعد کارخانۂ قدرت کے چلانے والی ابتدائی علتوں میں ملائکہ کا وجود ہے۔ملائکہ کو بھی قرآن کریم نے تمام نقائص اور عیوب سے جو ان کی ذات کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں پاک قرار دیا ہے۔مثلاً فرماتا ہے لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ (التّحریم :۷) یعنی ملائکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو انہیں حکم دیا جاتا ہے اس کی پوری طرح اطاعت کرتے ہیں اور اس طرح ان تہمتوں کا ردّ کر دیا ہے جو مثلاً یہود کی طرف سے ملائکہ پر لگائی جاتی ہیں کہ فرشتوں نے خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اُس کے احکام کو پسِ پشت ڈال دیا۔ہندوئوں میں ہے