تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 109

گیا ہے جس <mark>ہدایت</mark> کو تم نے طلب کیا تھا وہ یہی کتاب ہے اور تم نے چونکہ معمولی <mark>ہدایت</mark> طلب نہیں کی۔بلکہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ گروہ کی <mark>ہدایت</mark> طلب کی ہے اس لئے ہم تم کو بتاتے ہیں کہ یہ کتاب هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ ہے یعنی معمولی <mark>ہدایت</mark> نہیں دیتی بلکہ کامل متقی کو اور اوپر لے جا کر اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کے اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں شامل کر دیتی ہے اور تمام <mark>ان</mark>بیاء کی تعلیموں اور <mark>ان</mark> کے حاصل کردہ <mark>ان</mark>عامات کی جامع ہے۔لَا رَيْبَ فِيْهِ۔ریب کے معنے بتائے جا چکے ہیں۔کہ تہمت۔شک۔کمی۔نقص اور آفت و مصیبت کے ہیں۔لفظ رَیْب میں قرآن مجید کے متعلق چار دعوے اور <mark>ان</mark> کا ثبوت یہ سب کے سب معنی اس آیت میں چسپ<mark>ان</mark> ہوتے ہیں اور قرآن کریم کے متعلق اس میں چار دعویٰ کئے گئے ہیں۔(۱) اس میں کسی ہستی کی حق تلفی نہیں کی گئی اور کسی پر ناواجب الزام نہیں لگایا گیا۔نہ خدا تعالیٰ پر اس میں تہمت لگائی گئی ہے اور نہ کسی نبی یا رسول پر نہ ملائکہ پر نہ بنی نوع <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پر نہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark>ی فطرت پر۔<mark>غرض</mark> کسی کی اس میںحق تلفی نہیں کی گئی۔کسی پر اتہام نہیں لگایا گیا۔یہ اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ اس کی نظیر دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتی اور یہ ایسی زبردست صداقت ہے جس کی مثال اور کوئی مذہب پیش نہیں کر سکتا۔قرآن کریم کے شروع کرتے ہی یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ اس کتاب کی دوسری کتب کی موجودگی میں کیا ضرورت تھی؟ اس سوال کا سہل ترین جواب یہ ہو سکتا تھا کہ پہلی کتب کی <mark>بعض</mark> مضحکہ خیز باتیں پیش کر دی جاتیں اور کہا جاتا کہ <mark>ان</mark> کتب میں فلاں فلاں عیوب ہیں اس لئے <mark>ان</mark> سے دنیا <mark>ہدایت</mark> نہیں پاسکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اُتارا ہے یہ جواب باوجود اس ادّعا کے کہ قرآن کریم سب نبیوںکی تعلیم کی طرف <mark>ہدایت</mark> دینے کے لئے نازل ہوا ہے درست ہوتا کیونکہ قرآن کریم گو اس امر کا مُدّعی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی آتے رہے ہیں اور<mark>ان</mark> میں سے <mark>بعض</mark> کو شریعت بھی ملی ہے اس امر کو تسلیم نہیں کرتا کہ <mark>ان</mark> <mark>ان</mark>بیاء کی تعلیم موجودہ وقت میں بھی محفوظ ہے پس اس کا یہ جواب کہ موجودہ زم<mark>ان</mark>ہ میں پہلے نبیوں کی کتب غیرمحفوظ ہیں اور خراب ہیں بالکل درست ہوتا اور مخالفین قرآن کریم کے لئے نہایت درجہ ُمسکت بھی ہوتا مگر ایک عظیم الش<mark>ان</mark> بشارت کی اس رنگ کی ابتداء نفیس طبیعتوں پر گراں ضرور گزرتی کیونکہ گو پہلی کتب کی غلطیوں پر مطلع کرنا قرآن کریم کے ضروری فرائض میں سے ہے مگر ابتداء ہی میں اس مضمون کو چھیڑ دینا نہ تو ایک غیر معمولی ش<mark>ان</mark> کی کتاب کے شایاں تھا اور نہ اس سے اس عظمت و شوکت کا اظہار ہو سکتا تھا جو اس مضمون سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہم کسی فرد یا ہستی کو اس کے مقام سے نہیں گراتے بلکہ سب کے مناسب مقام اور درجہ کو تسلیم کرتے ہیں۔اس دعویٰ سے قرآن کریم نے ابتداء ہی میں اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے کسی قدر مشکلات پیدا کرلی ہیں؟ اعتراض کرنا