تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 107

کے متعلق۔وراثت کے متعلق۔وصیت کے متعلق۔ہمسایہ اور اہلِ محلہ کے متعلق۔تجارت اور زراعت کے متعلق۔حاکم و محکوم کے تعلقات اور ذمہ داریوں اور حکومت کی نوعیت کے متعلق۔مزدوروں اور مزدور رکھنے والوں کے متعلق۔حکومتوں کے باہمی تعلقات کے متعلق۔اقتصادی مسائل کی بنیادوں کے متعلق۔انسانوں اور جانوروں کے متعلق۔اور سب سے آخر میں لیکن سب سے مقدّم یہ کہ اللہ اور بندہ اور اس کے رسولوں کے متعلق تفصیلی اور مکمل احکام ان کی حکمتوں سمیت بیان کئے گئے ہوںگے یہ سب مسائل اور ان کے علاوہ اور بہت سے اپنی حکمتوںسمیت قرآن کریم میں بیان ہیں اور ان کا عشر عشیر بھی اور کسی کتاب میں موجود نہیں۔ویدوں کو لو۔تو اوّل عام ہندو ویدوں کو جانتا بھی نہیں اور جو تھوڑے سے جانتے ہیں ان میں سے اکثر انہیں بطور منتر جنتر استعمال کرتے ہیں اور جو اسے سمجھتے ہیں ان کے نزدیک بھی اس کی بڑی خوبی دعائیں اور پیدائش انسانی کی غرض بیان کرنا ہے مگر دعائوں اور انسانی پیدائش کے فلسفہ پر جو مکمل اور تفصیلی بحث قرآن کریم نے کی ہے اس کے مقابل میں ویدوں کی تعلیم بالکل ماند پڑ جاتی ہے۔قرآن کریم کی دعائیں انسانی فطرت کی باریکیوں پر مشتمل ہیں وہ لفاظی سے پُر نہیں وہ انسان کی ضروریات کو پہلے ننگا کر کے دکھاتی ہیں پھر انہیں قدو سیت اور پاکیزگی کی چادر اُڑھاتی ہیں۔اسی طرح قرآن کریم انسانی پیدائش کی ایسی تفصیلات بیان کرتا ہے جو استعاروں میں چھپ کر انسانی دماغ کو پریشان نہیں کر دیتیں بلکہ اسے مشاہدہ اور تجربہ کے میدان میں کھڑا کر کے اس کے ذہن کو صاف کرتیں اور اس کے فکر کو جلا بخشتی ہیں۔اسلام نے انسان کے انجام کو یعنی مابعد الموت کے مسئلہ کوجس طرح بیان کیا ہے اس کے مقابل پر سب کتب شکست خوردہ ہیں۔توریت خاموش ہے انجیل بالکل نامکمل سا ذکر کرتی ہے۔ویدوں میں مابعدالموت کا کوئی ذکر نہیں۔زر تشت کی کتاب میں کچھ ذکر ہے مگر صرف استعارہ کے طو رپر اور مادی الفاظ میں دیا ہوا۔اس کے مقابل پر قرآن کریم تفصیلاً بتاتا ہے کہ نیک و بد کو کیا جزا ملے گی اور کس طرح ملے گی اس کی کیا کیفیت ہو گی اور اس کی غرض کیا ہو گی۔دوسری زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کے حصول کے لئے کس جدوجہد کی ضرورت ہے جزا سزا کے اُصول کیا ہیں؟؟ قرآن مجید میں فلسفۂ اخلاق کا بیان اور دوسری کتب پھر فلسفہ اخلاق ہے جس پر مذہب کی بنیاد ہے اور دنیاوی امن و امان کے قیام کا انحصار ہے اس مضمون کو بھی دوسری کتب نے یا ُچھوا نہیں یا صرف اس کے حوالی کو ُچھو کر چھوڑ دیا ہے۔ُبدھ کی تعلیم میں بیشک جذبات پر بحث ہے مگر قرآن کریم کی تعلیم کے مقابل پر وہ بھی کچھ نہیں۔قرآن کریم نہ صرف جذبات پر بحث کرتا ہے بلکہ وہ ان کے پیدا ہونے کی وجوہ اور ان کی ضرورت اور پھر ان کے