تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 96
الٓمّٓ آیا جس کے بعد اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ۔نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ (اٰل عمران:۳ ،۴) آیا۔یاد رکھنا چاہیے کہ حقّ اور لَارَیْبَ کے دراصل ایک ہی معنے ہیں پس بقرہ میں بھی الٓمّٓ کے بعد ایسی کتاب کا ذکر تھا جس میں ریب نہ ہو اور اس جگہ بھی پھر اعراف میں الٓمّٓصٓ آیا اور اس کے بعد كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ(الاعراف:۳)کی آیت رکھی گئی گویا یہاں بھی لَا رَیْبَ فِیْہِ والی کتاب کا ذکر ہوا ہے کیونکہ فَلَایَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ ایسی ہی کتاب پر دلالت کرتا ہے جو لَا رَیْبَ فِیْہِ کی صفت سے متصف ہو۔ان ابتدائی سورتوں کے بعد وقفہ دے کر عنکبوت الٓمّٓ سے شروع ہوتی ہے فرماتا ہے۔الٓمّٓ۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۔وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ (العنکبوت:۲ تا ۴) ان آیات میں بھی ایک یقینی کتاب کا ذکر کیا گیا ہے چنانچہ امتحان شک اور ریب کے دُور کرنے پر ہی دلالت کرتا ہے۔پس اس سورۃ میں بھی وہی مضمون ہے جو سورۃ بقرہ وغیرہ میں تھا صرف فرق یہ ہے کہ بقرہ میں انسان بحیثیت مجموعی مخاطب تھے اور یہاں مومنوں سے کہا گیا ہے کہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ابھی شک تمہارے دلوں میں باقی ہو اور ہم تم سے معاملہ کا ملین والا شروع کر دیں۔سورۂ روم میں بھی یہی مضمون ہے گو بہت باریک ہو گیا ہے فرماتا ہے الٓمّٓ۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ۔فِيْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ (الروم:۲ تا ۴) خدا تعالیٰ کا کلام روم کے متعلق نازل ہوا ہے اور وہ ضرور پورا ہوکر رہے گا گویا بجائے سب کتاب کی طرف اشارہ کرنے کے ایک خاص حصّہ کی طرف اشارہ اور اس کے یقینی ہونے پر زور دیا ہے جیسا کہ ’’مِنْ‘‘ اور ’’س‘‘ کے حروف سے ظاہر ہے۔سورۂ روم کے بعد سورۂ لقمان الٓمّٓ سےشروع ہوتی ہے۔اس میں فرماتا ہے۔الٓمّٓ۔تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِ۔هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِيْنَ۔الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (لقمان : ۲ تا ۶) اس سورۃ میں بھی حَکِیْم کا لفظ استعمال کر کے ایک یقینی امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور گویا بقرہ کے ابتدائی مضمون کو دُہرا دیا گیا ہے اور اس کے بعد سورہ سجدہ ہے اس میں آتا ہے۔الٓمّٓ۔تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ لَا رَيْبَ فِيْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ (السجدۃ: ۲،۳) یہاں بھی ایک بے ریب کتاب کا ذکر ہے پس ان سب آیات سے ظاہر ہے کہ جہاں الٓمّٓ آتا ہے اس کے بعد ایک خاص مضمون آتا ہے اور ایک یقینی علم کے نزول کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اب اس امر کی موجودگی میں کس طرح سمجھ لیا جائے کہ یہ الفاظ یونہی رکھ دیئے گئے ہیں۔پس حق یہی ہے کہ الٓـمّٓ کے حروف ازالہ شک اور یقین پر دلالت کرنے کے لئے آتے ہیں اور