تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 95
سے شروع کیا گیا ہے پھر سورۂ شوریٰ کو بھی حٰمٓ سے شروع کیا گیا ہے لیکن ساتھ حروف عٓسٓقٓ بڑھائے گئے ہیں اس کے بعد سورۂ زخرف ہے اس میں بھی حٰمٓ کے حروف ہی استعمال کئے گئے ہیں۔پھر سورۂ دخان۔جاثیہ اور احقاف بھی حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں۔ان کے بعد سورۂ محمد۔فتح اور حجرات بغیر مقطعات کے ہیں اور پہلی سورتوں کے تابع ہیں سورہ قٓ حرف ق سے شروع ہوتی ہے اور قرآن کریم کے آخر تک ایک ہی مضمون چلا جاتا ہے۔یہ ترتیب بتا رہی ہے کہ یہ حروف یونہی نہیں رکھے گئے۔پہلے الٓمّٓ آتا ہے پھر الٓمّٓصٓ آتا ہے جس میں ص کی زیادتی کی جاتی ہے۔پھر الٓرٰ آتا ہے اور پھر الٓمّرٰٓ آتا ہے کہ جس میںمیم کی زیادتی کی جاتی ہے پھر کٓھٰیٰعٓصٓ آتا ہے جس میں ص پر چار اور حروف کی زیادتی ہے پھر طٰہٰ لایا جاتا ہے۔اور پھر اس میں کچھ تبدیلی کر کے طٰسٓمّٓ کر دیا جاتاہے۔یہ ایک ہی قسم کے الفاظ کا متواتر لانا اور بعض کو بعض جگہ بدل دینا بعض جگہ اور رکھ دینا بتاتا ہے کہ خواہ یہ حروف کسی کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں جس نے انہیں رکھا ہے کسی مطلب کے لئے ہی رکھا ہے۔اگر یونہی رکھے جاتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ کہیں ان کو بدل دیا جاتا کہیں زائد کر دیا جاتا کہیں کم کر دیا جاتا۔مقطعات کی دلالت کا اعتراف مخالفین اسلام کی طرف سے علاوہ مذکورہ بالا دلائل کے خود مخالفین اسلام کے ہی ایک استد لال سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مقطعات کچھ معنی رکھتے ہیں۔مخالفین اسلام کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب ان کی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے ہے اب اگر یہ صحیح ہے تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ سورتیں اپنی لمبائی اور چھوٹائی کے سبب سے آگے پیچھے رکھی گئی ہے ایک قسم کے حروف مقطعات اکٹھے آتے ہیں ؟ الٓمّٓ کی سورتیں اکٹھی آ گئی ہیں الٓـرٰٓ کی اکٹھی طٰہٰ اور اس کے مشترکات کی اکٹھی پھر الٓمّٓکی اکٹھی حٰمٓ کی اکٹھی۔اگر سورتیں ان کے حجم کے مطابق رکھی گئی ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں معلوم ہوتی کہ حروف مقطعات ایک خاص حجم پر دلالت کرتے ہیں؟ اگر صرف یہی تسلیم کیا جائے تب بھی اس کے معنے یہ ہوں گے کہ حروفِ مقطعات کے کچھ معنی ہیں خواہ یہی معنی ہوں کہ وہ سورۃ کی لمبائی اور چھوٹائی پر دلالت کرتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ ایک قسم کے حروف مقطعات کی سورتوں کا ایک جگہ پر جمع ہونا بتاتا ہے کہ ان کے معنوں میں اشتراک ہے اور یہ حروف سورتوں کے لئے بطور کنجیوں کے ہیں۔حروف مقطعات کے معانی کا استنباط قرآن کریم سے میرے نزدیک حروفِ مقطعات کے معنوں کے لئے ہمیں قرآن کریم ہی کی طرف دیکھنا چاہیے پہلی سورتوں میں الٓمّٓ آیا تھا چنانچہ سورہ بقرہ کے پہلے یہی حروف تھے اور ان کے بعد ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ (البقرة:۳) کا جملہ تھا۔اس کے بعد آل عمران میں