تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 95
ہے وہ ماں باپ کے ذریعہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اگر ماں باپ اپنی اولاد کو نہ پڑھائیں تو وہ کس طرح دنیا میں عزت حاصل کر سکتی ہے۔ماں باپ اگر اپنے بچوں کی پرورش نہ کریں تو وہ کس طرح بڑے ہو سکتے ہیں۔مگر اس کے باوجود یہ عجیب بات ہے کہ کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے اولاد کے مال میں ماں باپ کا حق تسلیم کیا ہو۔تورات میں بے شک ایسے احکام پائے جاتے ہیں کہ ماں باپ کا ادب کرو۔مگر اولاد کے مال میں ان کا حق نہیں رکھا۔یہ قرآن کریم ہی ہے جس نے ان کا حق رکھا ہے اور بڑا اہم حق رکھا ہے۔قرآن کریم نے والدین کو اولاد کے ورثہ کا حقدار تسلیم کیا ہے۔بلکہ بعض صورتوں میں جب اولاد زیادہ ہو تو ماں باپ کواولاد سے زیادہ حق ملتا ہے۔یعنی اگر مرنے والے کی اولادزیادہ ہو تو اولادکا حق کم ہو جائے گا اور ماں باپ کا حق زیادہ ہو جائے گا۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے ماں باپ کے ایسے حقوق مقرر کئے ہوں۔یہ تو سب کہتے ہیں کہ ماں باپ کا لحاظ کرو، ادب کرو، عزت کرو۔مگر تمام باتیں صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہوتی ہیں۔اسلام ہی ہے جس نے اولاد کے مال میں والدین کا حق قائم کر کے ان کے مرتبہ کو تسلیم کیا ہے۔پھر لڑکی کو وراثت کا حق نہیں تھا۔اسلام نے اس کے حق کو بھی قائم کیا اور فرمایا کہ لڑکی بھی جائیداد کی ویسی ہی وارث ہو سکتی ہے جیسے لڑکا۔اور وہ اس جائیداد پر پورا حق رکھتی ہے۔درحقیقت اسلام بنی نوع انسان کو اس نکتہ کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ جس طرح دنیا کی دولت مشترک ہے۔کسی ایک کی حقیقی ملکیت نہیں اس طرح تمہاری کمائی میں بھی ہر ایک کا حق ہے۔کیونکہ کوئی اکیلا نہیں کما سکتا۔بلکہ اسے دوسروں کو اپنے ساتھ شامل کرنا پڑتا ہے۔اس لئے وہ جب بھی کمائے گا اس میں دوسروں کا حق ہو گا۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ بڑی بڑی تجارتیں شہروں میں ہی ہوتی ہیں۔گاؤں میں نہیں ہوتیں۔شہروں میں کیوں زیادہ ہوتی ہیں۔اس لئے کہ شہروں میں نقل و حرکت کے سامان موجود ہوتے ہیں، پکی سڑکیں ہوتی ہیں، ریل ہوتی ہے، لاریاں ہوتی ہیں اور دوسرے ذرائع نقل و حمل موجود ہوتے ہیں۔شہروں میں کیوں ہوٹل کھولے جاتے ہیں اس لئے کہ وہاں بہت لوگ ہوتے ہیں۔گاؤں میں اگر ہوٹل کھولا جائے تو وہ نہیں چل سکتا۔پھر شہروں میں سرائیں ہوتی ہیں، لوگ آتے ہیں اور ان میں ٹھہرتے ہیں گاؤں میں سرائے نہیں ہوتی۔پھر گاؤں میں بڑے بڑے سٹور نہیں ہوتے کہ جہاں کوئی مال رکھ سکے۔یہ ساری چیزیں فردی طور پر نہیں بلکہ مجموعۂ آبادی کی وجہ سے لوگوں کو میسر آتی ہیں۔اس لئے جو کچھ شہری کماتا ہے اس میں دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے اس لئے اسلام نے یہ قانون بنا دیا کہ جو کوئی کمائی کرتا ہے اس میں اس کے ہمسائیوں کا بھی حق ہے کیونکہ اگر وہ نہ ہوتے تو وہ کما نہ سکتا۔پھر فرمایا یہ حق ہمسائیوں کو مفت نہیں دیا جارہا۔بلکہ اس لئے