تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 88

(۱۱) پاخانہ جانا بظاہر کتنا گندہ فعل ہے مگر وہاں بھی مناسب حال ذکر موجود ہے یعنی اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ۔(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الخلاء) (۱۲) پھر غسل کرنے لگو تب بھی ذکر موجود ہے۔(ترمذی ابواب الطھارۃ باب مایقال بعد الوضوء) (۱۳) میاں بیوی کے مخصوص تعلقات کو لو تو اس موقعہ پر بھی ہمارے کوثر والے آقاؐ نے کہا کہ جب تم آپس میں ملنے لگو تو خدا تعالیٰ کا پہلے ذکر کرو۔یعنی اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطٰنَ وَ جَنِّبِ الشَّیْطٰنَ مَا رَزَقْتَنَا پڑھ لیا کرو۔(بخاری کتاب الدعوات باب ما یقول الرجل اذا اتی اھلہ ) غر ض انسانی زندگی کا کوئی حصہ بھی ایسا نہیں خواہ وہ جذبات کے اظہار کا ہی ہو جہاں کوئی نہ کوئی ذکر موجود نہ ہو۔اسلامی مقررہ عبادت کے علاوہ اسلامی عبادت کے بعض حصے اس کے علاوہ اسلام نے عبادت کے بعض اور حصے بھی بتائے ہیں جو دس قسم کے ہیں۔(۱) تفکّر۔یہ خدا تعالیٰ کی ہستی تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔تفکّر کے معنے ہیں ذہنی اور فلسفیانہ الجھنوں پر غور کرنا۔(۲) شکر۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ (ابراہیم:۸)جذبۂ شکر فکر کو مدد دیتا ہے اور قربِ الٰہی کی راہیں انسان پر کھلنے لگ جاتی ہیں۔(۳) تذکّر۔تذکّر اور تفکّر میں فرق ہے۔تفکّر کسی ذہنی مسئلہ پر غور کرنے کوکہتے ہیں اور تذکّر کسی پچھلے واقعہ کو یاد کر کے نتیجہ نکالنے کو کہتے ہیں جس کو عبرت بھی کہتے ہیں یہ بھی دل کی صفائی کا ایک بھاری ذریعہ ہے۔(۴) شعور۔انسان کی فطرت میں جو جذبات ہیں ان پر غو ر کر کے انہیں باہر نکالنا شعور کہلاتا ہے فطرت میں بہت سے احساسات اور جذبات پائے جاتے ہیں اگر ہم ان کو ابھاریں تو وہ بڑی ترقی کا موجب ہو سکتے ہیں۔(۵)علم۔یہ جگ بیتی کا نام ہے تذکّر آپ بیتی کو کہتے ہیںاور علم جگ بیتی کو۔کہانیوں میں بھی آتا ہے کہ آپ بیتی کہوں یا جگ بیتی۔اگر یہ علم ہو جائے کہ فلاں آدمی نے یہ یہ اعمال کئے تھے جن سے خرابیاں پیدا ہوئیں تو بہت کچھ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔(۶)فقہ۔فقہ کا جذبہ بھی انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے قرآن کریم میں آتا ہے لِيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ(التوبۃ:۱۲۲) فقہ ہر اس مسئلہ علمیہ کو کہتے ہیں جو ظاہر پر دلالت کرے اور اس کے ساتھ ہم اس کے باطنی اثرات کو سوچیں فکر مسئلہ فلسفیہ کے لئے آتا ہے اور تفقّہ مسئلہ علمیہ کے لئے آتا ہے۔(۷) عقل۔اس سے بھی اگر کام لیا جائے تو انسان کے اندر ایک ایسا جذبہ پیدا ہو تا ہے جو اسے برے اور بھلے