تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 87
(۲) دوسرا ذکر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ہےجو ہر کام کے ختم ہو نے پر کہا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (یونس:۱۱) مومنوں کا آخری قول یہی ہو تا ہے کہ سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔(۳) تیسرا ذکر سُبْحَانَ اللّٰہِ ہے جو ہر تعجب انگیز اور بڑے کام پر کیا جاتا ہے۔اگر اس پر بھی غور کیاجائے تو یہ ذکر اپنے اندر بڑی حکمتیں رکھتا ہے۔(۴) پھر مصیبت کے اوقات کے لئے اسلام نےیہ ذکر سکھایا کہ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یعنی جب تم پر کوئی مصیبت آئے تم اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہو جس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اسی کے ہیں اور بالآخر ہم نے بھی اسی کی طرف جانا ہے اگر کوئی عزیز مجھے مل گیا تھا تو یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا تھا اور اب جبکہ اس نے واپس لے لیا ہے میرے لئے غم کی کون سی بات ہے۔پھر اگر کوئی گلاس ٹوٹ گیا تو کہہ دیا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ یہ گلاس بھی آخر خدا تعالیٰ نے ہی دیا تھا ہم نے بھی اسی کے پاس جانا ہے وہاں اور گلاس مل جائیں گے۔غرض ہر نقصان کے وقت اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہنا انسانی فطرت کو زنگ سے صاف کر دیتا ہے۔(۵) پھر اگر کوئی مکروہ بات یا مکروہ نظارہ پیش آجائے تو اس موقع کو اسلام نے ذکر کے بغیر نہیں چھوڑا بلکہ ہدایت دی کے جب کوئی مکروہ چیز دیکھو تو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہو۔(۶) پھر انسان کے اندر گناہ کی کوئی تحریک پید اہو تو ایسے موقع پر اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ کا ذکر رکھ دیا۔یعنی میں شیطانی حملوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔(۷)پھر اَعُوْذُ بِاللّٰہِ ایک ذکر ہے جو ہر ایسے اہم کام کے شروع کرنے پر کیا جاتا ہے جس کے راستہ میں شیطانی روکوں کا امکان ہو۔مثلاً قرآن کریم پڑھنا ایک اہم کام ہے اور چونکہ شیطان اس میں روکیں پیدا کرتا ہے اس لئے فرمایا فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ (النحل:۹۹) (۸) اس کے علاوہ انسان سونے لگے تب بھی ذکر موجود ہے۔چنانچہ ہدایت ہے کہ آیۃ الکرسی اور تینوں قل پڑھو اور اپنے سینہ پر پھونک لو۔(ترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فیمن یقرأ القراٰن عند المنام) (۹) آنکھ کھلے تب ذکر موجود ہے کہ اَلْـحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔(بخاری کتاب الدعوات باب ما یقول اذا نام) (۱۰) اسی طرح بیماری کے وقت بھی ذکرموجود ہے اور شفا ہو نے پر بھی ذکر الٰہی موجود ہے۔(بـخاری کتاب المرضٰی باب دعاء العائد للمریض)