تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 86

اسی طرح ہر پیشے والا تسبیح کو بھی جاری رکھ سکتا ہے اور اپنا کام بھی کر سکتا ہے لیکن نمازیں ہر وقت نہیں پڑھی جا سکتیں۔ہم کھڑے ہوں تب بھی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں، تیر رہے ہوں تب بھی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں، بندوق سے نشانہ کر رہے ہوں تب بھی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں، موٹر چلا رہے ہوں تب بھی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں۔مگر اس قسم کا ذکر اسلام کے علاوہ اور کسی مذہب میں نہیں۔ہندو کو کہو کہ وہ اپنی کتاب سے نکالے، زردشتی کو کہو کہ وہ اپنی کتاب سے نکالے۔تمہیں اس قسم کے ذکر کا دوسرے مذاہب میں کہیں نام و نشان بھی نہیں ملے گا۔غرض خدا تعالیٰ نے اس طرح عبادت کے راستے کھول دیئے ہیں کہ اگر کوئی دیانت دار ہو تو وہ مجبور ہے کہ ذکر الٰہی کرے۔اسلامی ذکر اور اس کے لحاظ سے اسلامی عبادت کی فضیلت (۱) سب سے بڑا ذکر تو بسم اللہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کوئی کام کرو تو اس کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔بسم اللہ کے بغیروہ کام بے برکت ہو جائے گا۔انسان کپڑے پہنے تو پہلے بسم اللہ کہے، جوتی پہنے تو پہلے بسم اللہ کہے، پانی پیئے تو پہلے بسم اللہ کہے، برتن مانجے تو پہلے بسم اللہ کہے، جانور ذبح کرے تو پہلے بسم اللہ کہے، گوشت پکائے تو پہلے بسم اللہ کہےغرض ہر کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے۔بسم اللہ میں اس طرف اشارہ ہو تا ہے کہ دنیا میں جس قدر چیزیں پائی جاتی ہیں یہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کی مِلک ہیں او رمیں اس کی اجازت کے ماتحت ان کو اپنے استعمال میں لا رہا ہوں۔مثلاً جانور ذبح کرتے وقت جب وہ بسم اللہ کہتا ہے تو اس کے معنے یہ ہو تے ہیں کہ یہ جانور میں نے کسی سے چھینا نہیں۔اللہ تعالیٰ اس کا مالک ہے اس نے مجھے کہاہے کھالو۔اس لئے میں اسے ذبح کرتا ہوں پھر مرچ ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہے، کوئلہ ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، برتن ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے دیئے ہوئے ہیں۔میں تو مستعار طور پر اس کی ملکیتی چیزوں سے فائدہ اٹھا رہا ہوں۔حضرت سید عبد القادر جیلا نیؒ کے متعلق آتا ہے کہ آپ اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا کھاتے تھے اور اچھے سے اچھا کپڑا پہنتے تھے۔بعض لوگوں نے آپ پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا میں کیا کروں جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیںکہتا۔اے عبد القادر جیلانیؒ تجھے میری ذات ہی کی قسم تو کھا اس وقت تک میں نہیں کھاتا۔اور جب تک خدا تعالیٰ مجھے یہ نہیں کہتا کہ اے عبد القادر جیلانیؒ تجھے میری ذات ہی کی قسم تو فلاں کپڑا پہن تب تک میںکپڑا نہیں پہنتا(خزینۃ الاصفیاء شیخ عبد القادر جیلانی جلد ۱ صفحہ ۱۶۰)۔سید عبد القادر جیلانیؒ کو تو خدا کہتا ہو گا کہ تو ایسا کر مگر ہر مسلمان جب کسی کام کے کرنے سے پہلے بسم اللہ کہتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہی ایسا کہتا ہے۔پس ہر مسلمان ہی درحقیقت ہر کھانا خدا تعالیٰ کے حکم سے کھاتا ہے اور ہرکپڑا اس کے حکم سے پہنتا ہے۔