تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 85

آبخورہ الٹا رکھ دیا۔حضرت مظہر جان جاناںؒکو یہ دیکھ کرسخت غصہ آیا اور انہوں نے بادشاہ سے فرمایا آپ نے کیسا بے وقوف وزیر رکھا ہوا ہے جسے آبخورہ بھی سیدھا رکھنا نہیں آتا۔غرض آپ کو صفائی کا بہت خیال رہتا تھا۔آپ نے جیب سے رومال نکالا اور بڑی احتیاط کے ساتھ اسے فرش پر بچھایا۔پھر اس پر دو لڈو رکھے اور ایک لڈو سے چھوٹا سا ٹکڑا لیا، منہ میں ڈالا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگ گئے۔پھر فرمایا میاں غلام علی کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ لڈوکیسے بنا۔مظہر کی حیثیت ہی کیا تھی۔ذلیل پانی سے پید اہوا، پھر لوتھڑا بنا، گوشت پوست بنا اور آخر ایک دن یہ فنا ہو جائے گا۔لیکن خدا تعالیٰ کو دیکھو عرش پر بیٹھا ہوا ہے اس نے ہر چیز کو پید اکیا، زمین کو بھی پیدا کیا، آسمان کو بھی پیدا کیا اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں کو بھی اس نے پیدا کیا۔ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔اگلے پچھلے علوم اسے حاصل ہیں۔جو چاہے وہ کر سکتا ہے اس نے خیال کیا کہ مظہر ایک دن پیدا ہو گا اور بالائی کے لڈو اسے اچھے لگیں گے۔اس لئے ہم اس کے لئے بالائی کے لڈو تیار کروائیں۔میاں غلام علی کیا تم نے کبھی سوچا کہ پھر اس نے کہاں سے میٹھا پیدا کیا۔اس نے زمیندار کے دل میں خیال پیدا کیا اس نے گنا بویا پھر شکر بنی اور سینکڑوں آدمیوں کو اس نے اس کام میں لگا دیا۔محض اس لئے کہ مظہر جان جاناںؒایک لڈو کھا لے۔غرض اسی طرح ایک ایک کر کے تفصیلات بیان کیں اور پھر فرمایا۔بالائی کو دیکھو جانور نے کیا کیاکھایا اس سے دودھ بنا دود ھ سے بالائی تیار ہوئی۔پھر بالائی اور میٹھے سے حلوائی نے لڈو تیار کئے اور اس لئے کئے تا کہ مظہر جان جاناںؒایک لڈو کھالے۔آپ اسی رو میں بہے جا رہے تھےاور اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر کر رہے تھے کہ اذان ہو گئی اور آپ نماز کے لئے تشریف لے گئے اور لڈو وہیں پڑا رہ گیا۔(حکایات اولیاء صفحہ ۳۰تا۳۳) غرض اگر ہم نمازیں ہی پڑھتے رہیں تو دوسرے کام کس طرح کر سکتے ہیں۔وعظ و نصیحت بھی کرنا ہو تا ہے۔دنیا کے دوسرے کام بھی کرنے ہو تے ہیں۔لیکن ذکر ہر وقت ہو سکتا ہے۔ایک روٹی پکانے والا روٹی پکاتا جائے اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ سبحان اللہ بھی کہتا جائے تو اس کا کیا حرج ہے، پیڑا بنائے اور سبحان اللہ کہے آٹا پھیلاکر کپڑے پر لگائے تو سبحان اللہ کہے تنور میں لگائے تو سبحان اللہ کہے،سیخ کے ساتھ روٹی ہلائے تو سبحان اللہ کہے، روٹی کو نکالے تو سبحان اللہ کہے، اس طرح روٹی بھی پک جائے گی اور ذکر الٰہی بھی ہو تا رہے گا۔بجائے باتیں کرنے کے اگر وہ اس کام میں لگ جائے تو اس کا کیا حرج ہے یا مثلاً چکی پیسنے والی عورت ہے وہ چکی بھی پیستی جائے اور ساتھ ساتھ اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، لاحول ولاقوۃ اِلّا باللہ یا جو ذکر بھی مناسب ہو کرتی جائے تو آٹا کم نہیں ہو جائے گا۔یا یہ ذکر کرنے سے آٹا خراب نہیں ہو جائے گا ڈاکٹر اپریشن کرتا جائے اور ساتھ ساتھ سبحان اللہ سبحان اللہ کرتا جائے اور غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے انسانی جسم میں کیسا عظیم الشان نظام قائم کیا ہوا ہے۔