تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 449

اور اپنے دوسرے رشتہ داروں اور اپنی قوم سے نظر اٹھا کر اس خدا کی طرف آتا ہوں جو ربّ النّاس ہے۔میں حکومتوں کے بغیر دنیا میں گذارہ نہیں کرسکتا مگر چونکہ مجھے ان کی طرف سے شر پہنچنے کا ہر وقت احتمال ہے اس لئے میں اس بادشاہ کی طرف اپنی نظر پھیرتا ہوں جس کے یہ سب اظلال ہیں۔اور اس کی پناہ میں آتاہوں پھرمذہبی طور پر خدا تعالیٰ کے اظلال کہلانے والے بھی موجود ہیں جن کو بعض لوگوں نے اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ بنا لیا ہے۔مجھے ان سے فائدے پہنچتے ہیں مگر مضرتوں کا بھی امکان ہے۔اس لئے میں اس کی طرف نظر اٹھاتاہوں جس کی طرف سے خیر ہی خیر آتی ہے۔اگر کوئی شخص اس سورۃ کے اس مفہوم کو مدّ نظر رکھ کر دعا کیا کرے تو نہ اسے اہلی خطرات پیش آئیں نہ بادشاہت کا کوئی فتنہ اسے نقصان پہنچائے نہ مذہبی پیشوائوں کی وجہ سے کوئی ضعف پہنچے۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر حکومتیں تمہیں ڈرائیں۔تمہاری بات نہ سنیں۔تم پر ظلم کریں۔تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تم میرے دربار میں آئو میں تمہارا اصل بادشاہ ہوں۔اگر ملک یا قوم یا خاندان کی طرف سے تم پر ظلم کیا جاتا ہے تو تم میرے دربار میں آئو۔میں تمہارا رب ہوں۔اور تمہارا خاندان اور تمہاری قوم بھی میرے قبضہ میں ہے۔اگر مذہبی پیشوا تمہیں گمراہ کرنا چاہیں تو تم میرے دربار میں آئو کیونکہ میں تمہارا اِلٰہ ہوں اور تمہاری ہدایت میرے ذمہ ہے اور اگر تم میرے پاس آئوگے تو تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچ سکے گا۔نہ ربوبیت کی قسم کا، نہ ملکیت کی قسم کا، نہ الوہیت کی قسم کا۔جس طرح مائیں اپنے بچوں سے کہتی ہیں کہ کوئی تمہیں چھیڑے تو میرے پاس آجانا اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ تعلیم دیتا ہے کہ دیکھو میں تمہیں دنیا میں بھیج رہاہوں تمہارے ارد گرد تمہارے بھائی بند ہوں گے۔دوست، عزیز اور رشتہ دار ہوں گے۔اہلِ قوم اور اہلِ ملک ہوں گے۔اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ میرے پاس آنا۔ان سے تمہیں خیر بھی پہنچ سکتا ہے اور شر بھی۔لیکن اگر کبھی ان سے شر پہنچے تو تم میرے پاس آنا۔اسی طرح دنیا میں نظام قائم رکھنے کے لئے حکومتیں ہوں گی ان سے تمہیں خیر بھی پہنچ سکتا ہے اور شربھی۔لیکن اگر کبھی تمہیں ان سے شر پہنچے تو تم میرے پاس آئو۔پھر دنیا میں روحانی پیشوا بھی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری تربیت تو کریں مگر ایسے رنگ میں کہ بجائے فائدہ کے تمہیں نقصان پہنچا دیں اور تمہاری روح کو کچل دیں۔پس اگر یہ صورت ہو تو بھی تمہیں گھبرانا نہیں چاہیے۔تمہارااصل روحانی پیشوا میں ہوں تم میرے پاس آجانا۔پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔الغرض آخری زمانہ میں ربوبیت، ملوکیت اور الوہیت کے ماتحت جو فتنے مخالفین اسلام کی طرف سے اٹھنے والے تھے ان کے لئے اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ میں ایک جامع دعا امت محمدیہ کو سکھادی گئی ہے۔