تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 448
موجب بن جاتی ہے۔اسی طرح اِلٰہِ النَّاسِ سے بھی تباہی آتی ہے۔وہی مذہبی لیڈر اور راہنما جو بہتری کی ہزاروں تجاویز سوچتے اور لوگوں کی برتری کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔بسا اوقات جب ظاہرمیں لوگوں کی درستی کی تدابیر کررہے ہوتے ہیں باطن میں وہ انہیں تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔پنڈت، پادری اور دوسرے مذہبی راہنما اپنی اپنی قوم کو بیسیوں اچھی باتیں بتاتے اور ان پر عمل کرنے کی تاکید کرتے ہیں وہ انہیں کہتے ہیں۔جھوٹ نہ بولو، فریب نہ کرو، دھوکا نہ دو، قتل نہ کرو، خیانت نہ کرو، سچائی اور دیانتداری اختیار کرو۔یہ سب باتیں دنیا کے تمام مذہبی پیشوا بتاتے ہیں لیکن جہاں وہ لوگوں کے ایک حصہ کو درست کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں وہیں وہ ان کے دوسرے حصہ کو تباہ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔جہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو۔جہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ تم غریبوں کا بوجھ اٹھائو اور مسکین اور نیک دل بن جائو۔جہاں امراء سے چندے لے کر غرباء کی امداد کے لئے خرچ کئے جاتے ہیں اور اس طرح نیک باتیں دنیا میں قائم کی جاتی ہیں۔وہاں ساتھ ہی یہ کہہ کر کہ یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے نیکی کی تمام تعمیر کو برباد کردیا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ تو کہہ اے خدا دنیا میں بے شک ربوبیت کرنے والے ہیں۔مگر ان کی ربوبیت دودھاری تلوار کی طرح ہوتی ہے۔جو ایک طرف اگر تیرے دشمن کو کاٹتی ہے تو دوسری طرف میری گردن بھی اڑادیتی ہے۔اے خدا دنیا کے بادشاہ ! میری جان، میرے مال، میری عزت اور میری آبرو کی حفاظت کرتے اور میری سہولت اور آرام کے لئے ہر قسم کی آسائشیں مہیا کرتے ہیں لیکن بعض دفعہ ان کی مخفی کوشش مجھے تباہ کرسکتی ہے او رمجھے تنزل میں گرا سکتی ہے۔اے خدا میرے لئے دنیا میں مذہبی پیشوا بھی ہیں جو ایک رنگ میں میرے لئے مطاع کی حیثیت رکھتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ فرماتا ہے کہ بعض لوگ اپنے مذہبی پیشوائوں کو اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ سمجھتے ہیں اور وہ واقعہ میں بنی نوع انسان کی خدمت بھی کر رہے ہوتے ہیں اور دراصل کوئی مذہبی پیشوا ایسا نہیں ہوتا جو ترقی کی باتیں اپنی قوم کو نہ بتا تاہو۔لوگ ایسے بے وقوف نہیں ہوتے کہ وہ کسی ایسے شخص کو اپنا مذہبی لیڈر او رمذہبی پیشوا بنالیں۔جو انہیں کوئی کام کی بات نہ بتائے۔مگران مذہبی پیشوائوں کی طرف سے بھی شر پہنچ سکتا ہے اور یہ انسان کو تباہ کر سکتے ہیں۔لیکن کون سا ایسا رب ہے جس کی طرف سے خیرہی خیر آتی ہے شر نہیں آتا۔کون سا ایسا مَلِک ہے جس کی طرف سے خیر ہی خیر آتی ہے شر نہیں آتا۔کون سا ایسا اِلٰہ ہے جس کی طرف سے خیر ہی خیر آتی ہے شر نہیں آتا۔وہ صر ف خدا تعالیٰ ہی ہے۔پس فرمایا تو کہہ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔مَلِکِ النَّاسِ۔اِلٰہِ النَّاسِ۔میں اپنے تمام اہلی تعلقات سے نظر اٹھا کر میں اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے ماں باپ