تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 438
پناہ چاہو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہی فضل ہوتو انسان کے تعلقات اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندوں اور رشتہ داروں اور حکمرانوں سے قائم رہ سکتے ہیں۔کیونکہ انسان کو کچھ علم نہیں کہ کس طرف سے وسوسہ اندازی ہو کر یہ تعلقات ختم ہوجائیں اور ان میں رخنہ پڑجائے۔وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَؒ۰۰۶ اور ہر حاسد کی شرارت سے (بھی ) جب وہ حسد پر تُل جاتاہے۔حلّ لُغات۔حَاسِدٌ۔حَسَدَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اور حَسَدَ عَلَیْہِ حَسْدًا کے معنے ہوتے ہیں تَـمَنّٰی زَوَالَ نِعْمَتِہٖ اِلَیْہِ کہ اس نے یہ خواہش کی کہ فلاں کو جو نعمت ملی ہو اس سے چھن کر اس کو حاصل ہوجائے۔(اقرب) پس حَاسِدٌ کے معنے ہوں گے وہ شخص جو دوسرے کی نعمت کو دیکھ نہیں سکتا اور چاہتا ہے کہ اس کی نعمت چھن جائے اور اس کو مل جائے۔تفسیر۔وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں تنزل کے اسباب میں سے ایک سبب کا ذکر کیا گیا تھا اور بتایا گیاتھا کہ اگر قومی شیرازہ بکھر جائے اور لامرکزیت آجائے تو قوم تباہ ہوجاتی ہے۔اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ ایسے حالات سے بچائے اور اگر ایسے حالات کبھی پیداہوں تو ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھے۔اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومی تباہی کا ایک اور سبب بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ بعض اوقات کوئی قوم اس وجہ سے تباہ ہوجاتی ہے کہ کوئی بیرونی دشمن اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ جو نعمتیں مال کی فراوانی اور آرام و آسائش اس قوم کو حاصل ہوتی ہیں وہ اس سے چھین لے اور خود ان سے فائدہ اٹھائے۔اگر ایسا دشمن ملک پر حملہ کرنے کے بعد غالب آجائے تو پھر ماتحت ملک کی ترقی ختم ہوجاتی ہے اور اس کی جنّت جہنم سے تبدیل ہوجاتی ہے اور اسے مختلف قسم کے مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پس وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ کے الفاظ کہہ کر دعا سکھائی کہ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں غلبہ دینا ہے اور جس کے نتیجہ میں تمہاری ترقی کا سورج وسط آسمان میں چمکے گا اور تمہارا ملک جنت بن جائے گا تم اس غلبہ کے متعلق دعا کرو کہ کوئی حاسد حملہ کر کے اس نعمت کو تم سے چھین نہ لے۔