تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 437
(۲) جیسا کہ آیات مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے۔ان آیات میں ان کمزوریوں سے بچنے کی بھی دعا سکھائی گئی ہے جو خَلقی طور پر انسان میں ہوتی ہیں۔تا وہ کمال کے حصول میں مانع نہ بن جائیں اور ان خرابیوں سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے جو بے وقت موت سے پیدا ہوجاتی ہیں۔ابتدائی اور انتہائی خرابیوں سے پناہ کی دعا سکھانے کے بعد وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں زندگی کے درمیانی عرصہ میں جو خرابیاں پیش آجایا کرتی ہیں۔ان سے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ بعض اوقات پیدائش میں بھی کوئی نقص اور کمزوری نہیں ہوتی اور بے موقع موت بھی نہیں ہوتی۔ہاں درمیانی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض کمزوریاں ہوتی ہیں اوران کے بھی دو حصے ہوتے ہیں۔(۱) وہ حصہ جو پیدائش کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے (۲) وہ حصہ جو موت کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پہلے حصہ کے متعلق فرمایا وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ یعنی انسان کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ماں سے ایسے ہی خوراک لیتا ہے جیسے پودا جڑسے لیتا ہے۔گویا ربوبیت کے لحاظ سے اس کا ماں باپ سے ظاہر ی تعلق ہوتا ہے اور باطنی لحاظ سے خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے یعنی وہ روحانی طور پر خدا تعالیٰ کا فرزند ہوتاہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی اسے پیدا کرتا ، خدا تعالیٰ ہی اس کی ربوبیت کرتا اور اسے بڑھاتا ہے۔آیت زیر تفسیر میں بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق اور عقد ایسا ہے کہ تمام قوتیں اسی سے حاصل ہوتی ہیں اور نشو ونما پاتی ہیں۔مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض شریر لوگ خیالات میں وسوسے ڈال کر بندہ کو خدا تعالیٰ سے علیحدہ کروادیتے ہیں او رنالائق بندہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتا ہے جس طرح دنیا میں نالائق بچے ماں باپ کو چھوڑدیتے ہیں اور ان سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے دعا سکھلائی کہ کہو ایسا نہ ہو کہ وہ گرہ جس سے ہم خدا تعالیٰ سے فیوض حاصل کرتے ہیں وہ ٹوٹ جائے۔بلکہ ایسا ہو کہ میرا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلقِ روحانی اب ہونے کے لحاظ سے ہے وہ گرہ مضبوط رہے۔تاایسا نہ ہو کہ جو غذا مجھے وہاں سے ملتی ہے وہ بند ہوجائے اور میں ہلاک ہوجائوں۔الغرض مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں خلقی کمزوریوں سے بچنے کی دعا سکھائی اور مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں موت کے ساتھ تعلق رکھنے والی خرابیوں اور مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں زندگی میں پیش آنے والی ان باتوں سے جن سے دور ہوکر انسان کمال سے محروم ہوجاتا ہے اور کمال حاصل کرنے کی طاقتیں کمزور پڑجاتی ہیں۔(۳) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں ایک مسلمان کو یہ ہدایت تھی کہ اگر وہ کامل توحید پر ایمان لایا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان ہر جگہ پر کرنا چاہیے اور اگر اس وجہ سے مخالفت کے طوفان اٹھ کھڑے ہوں اور ہر طرف تاریکی چھا جائے تو اسے گھبرانا نہیں چاہیے۔بلکہ ان مخالفتوں کے باوجود توحید کے جھنڈے کو بلند کرنا چاہیے۔وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں یہ بتایاگیا ہے کہ کامل توحید کو ماننے والا جب یہ اعلان کرے گا کہ اب میں نے خدا سے تعلق قائم کر لیا ہے تو کچھ دوست قائم رہیں گے اور کہیں گے تم نے بڑا اچھا کام کیا جو اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کر لیا۔مگر کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو ان حمایت کرنے والوں کو بدظن کرنے کی کوشش کریںگے اور چاہیں گے کہ دوست بھی دشمن بن جائیں۔پس ایسے وقت کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے توحید کو ماننے والے تم یہ اعلان کردینا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتاہوں ان لوگوں کے شر سے جو میرے دوستوں کے دلوں میں وساوس پیدا کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ تعلقات محبت توڑ کر میرے دشمن ہوجائیں اور میرے راستہ میں مشکلات پیدا کریں۔(۴) قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں کمال کے حاصل کرنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بھی دعا کرو کہ کمال کے بعد تم پر زوال نہ آئے اور مصائب کامنہ نہ دیکھنا پڑے۔اس کے بعد فرمایا وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ۔ایسے وقت میں جب انسان مشکلات و مصائب میں مبتلا ہو کچھ لوگ ایسے کھڑے ہوجاتے ہیں جو گرے ہوئے کو گراتے اور اسے اور زیادہ ذلیل اور رسوا کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں اور جس وقت انسان مشکلات میں مبتلا ہو اس وقت بعض لوگ اس کے رہے سہے تعلقات بھی بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔او راسے لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں چنانچہ یہ عام طورپر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے کہ گھر میں ذرا کسی بچہ پر ناراض ہوں تو دوسرے بچے جھٹ اس کے متعلق شکایتیں کرنے لگ جاتے ہیں کوئی کہتا ہے اماں جان اس نے فلاں موقع پر یہ شرارت کی تھی۔کوئی کہتا ہے اباجان اس نے یہ بھی شرارت کی تھی۔غرض جب کوئی گرجائے اور ذلیل ہوجائے تو جھٹ اس کی اور لوگ شکایتیں کرنے والے کھڑے ہوجاتے ہیں۔پس ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے کہ وہ لوگ جو تعلقات میں رخنہ ڈلوانے کی کوشش کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کی