تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 436
کے خلاف ہوگا اور جس کی وجہ سے دنیا میں بڑا بھاری شر اور فتنہ پیدا ہوجائے گا اس فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ وہ آخری زمانہ جس میں بڑی کثرت سے خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لٹریچر شائع کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے شر سے ہمیں بچائے او رہمیں اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ضمنی طور پر اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ آخری زمانہ میں ایسا لٹریچر شائع کیا جائے گا جس میں حکو مت اور رعایا کے تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی جائے گی۔(۲) جیسا کہ آیات مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے۔ان آیات میں ان کمزوریوں سے بچنے کی بھی دعا سکھائی گئی ہے جو خَلقی طور پر انسان میں ہوتی ہیں۔تا وہ کمال کے حصول میں مانع نہ بن جائیں اور ان خرابیوں سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے جو بے وقت موت سے پیدا ہوجاتی ہیں۔ابتدائی اور انتہائی خرابیوں سے پناہ کی دعا سکھانے کے بعد وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں زندگی کے درمیانی عرصہ میں جو خرابیاں پیش آجایا کرتی ہیں۔ان سے پناہ طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ بعض اوقات پیدائش میں بھی کوئی نقص اور کمزوری نہیں ہوتی اور بے موقع موت بھی نہیں ہوتی۔ہاں درمیانی زندگی کے ساتھ تعلق رکھنے والی بعض کمزوریاں ہوتی ہیں اوران کے بھی دو حصے ہوتے ہیں۔(۱) وہ حصہ جو پیدائش کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے (۲) وہ حصہ جو موت کے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پہلے حصہ کے متعلق فرمایا وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ یعنی انسان کی ابتدائی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ماں سے ایسے ہی خوراک لیتا ہے جیسے پودا جڑسے لیتا ہے۔گویا ربوبیت کے لحاظ سے اس کا ماں باپ سے ظاہر ی تعلق ہوتا ہے اور باطنی لحاظ سے خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے یعنی وہ روحانی طور پر خدا تعالیٰ کا فرزند ہوتاہے کیونکہ خدا تعالیٰ ہی اسے پیدا کرتا ، خدا تعالیٰ ہی اس کی ربوبیت کرتا اور اسے بڑھاتا ہے۔آیت زیر تفسیر میں بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق اور عقد ایسا ہے کہ تمام قوتیں اسی سے حاصل ہوتی ہیں اور نشو ونما پاتی ہیں۔مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض شریر لوگ خیالات میں وسوسے ڈال کر بندہ کو خدا تعالیٰ سے علیحدہ کروادیتے ہیں او رنالائق بندہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیتا ہے جس طرح دنیا میں نالائق بچے ماں باپ کو چھوڑدیتے ہیں اور ان سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ نے دعا سکھلائی کہ کہو ایسا نہ ہو کہ وہ گرہ جس سے ہم خدا تعالیٰ سے فیوض حاصل کرتے ہیں وہ ٹوٹ جائے۔بلکہ ایسا ہو کہ میرا اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلقِ روحانی اب ہونے کے لحاظ سے ہے وہ گرہ مضبوط رہے۔تاایسا نہ ہو کہ جو غذا مجھے وہاں سے ملتی ہے وہ بند ہوجائے اور میں ہلاک ہوجائوں۔الغرض مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں خلقی کمزوریوں سے بچنے کی دعا سکھائی اور مِنْ شَرِّ