تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 435

تفسیر۔جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے کہ اَلْعَقْدُ کے معنے ہیں اَلْوِلَایَۃُ عَلَی الْبَلَدِ یعنی حکومت یا گورنری۔او راسی طرح سے اس کے معنے اَلْبَیْعَۃُ لِلْوُلَاۃِ کے بھی ہیں۔یعنی حکام اور خلفاء کی بیعت۔اور نَفْثٌ فِی الْعُقَدِ ایک محاورہ ہے جس کے معنے تعلقات قطع کروانے کے ہیں۔اہل عرب میں یہ قاعدہ تھا کہ انقطاع تعلقات کے وقت گرہیں کھول کھول کر پھونک مارتے تھے۔آج کل بھی جادو کرنے والے لوگ جدائی ڈلوانے کے لئے اس طرح کرتے ہیں۔عربی میں کہتے ہیں فُلَانٌ یَنْفُثُ فِی الْعُقَدِ یعنی فلاں شخص تعلقات محبت منقطع کراتا ہے۔پس وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کرنی چاہیے جو تعلقات بیعت کو تڑوادیں اور مسلمانوں کے اتحاد میں رخنہ پیدا کردیں۔آیت زیر تفسیر سے پہلی آیات میں مسلمانوں کے تنزّل کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اب اس آیت میں وجوہات تنزل میں سے ایک وجہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اُمت محمدیہ کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کے لئے خلافت کا سلسلہ شروع ہوگا جس کی وجہ سے بہت سی برکات حاصل ہوں گی۔لیکن مسلمانوں پر کچھ عرصہ بعد ایسا وقت آجائے گا جبکہ ان کی خلافت سے وابستگی کچھ عرصہ بعدختم ہوجائے گی اور ان کے اندر لامرکزیت پیدا ہوجائے گی۔راعی اور رعایا کے تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور اس کا باعث یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے مفتوحہ ممالک میںسے ہر ایک ملک میں ایسے گروہ پیدا ہو ں گے جو اسلام کے دشمن ہوں گے اور نہایت ہوشیاری سے کام کریں گے اور ایسے خیالات پھیلائیں گے جن کی وجہ سے کمزور مسلمانوں کے دلوں میں خلفاء کے خلاف بعض خیالات پیدا ہوجائیں گے اور آخر ان کے تعلقات خلفاء سے ختم ہوجائیں گے۔حتی کہ خلفاء پر حملے ہوں گے اور مسلمانوں کے اندر انتشار پیداہوجائے گا اور خلافت سے وابستگی ختم ہو کر لامرکزیت پیداہوجائے گی اور مسلمانوں کا دن تاریک رات سے بدل جائے گا۔ترقیات رُک جائیں گی وہ آپس میں لڑ بھڑ کر جہنم پیدا کر لیں گے اور روحانیت اور پاکیزگی ختم ہوجائے گی۔کیونکہ وہ جڑیں جن سے یہ برکات حاصل ہوتی ہیں ان کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق ہی ٹوٹ جائے گا۔پس اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ ان کو ایسے وقت کے شرور سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔حل لغات میں جیسا کہ بتایا جا چکا ہے نَفَثَ کے معنے لکھنے کے بھی ہیں اس لحاظ سے نَفّٰثٰت کے ایک معنے لکھنے والے نفوس یا گروہوں کے بھی ہوں گے۔گویا ان معنوں کے اعتبار سے مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں بڑی کثرت سے ایسا لٹریچر شائع کیا جائے گا جو خدا اور اس کے رسول