تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 39
جزر کا وقت تھا۔جب ٹائیڈ TIDE کا وقت آیا تو فرعون اور اس کے ساتھی ڈوب گئے۔اس میں معجزہ اور نشان کی کون سی بات ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اس طرح بچایا کہ دشمن آپ کے قدموں کے نشانا ت کو دیکھتا ہوا غار ثور پر پہنچا اور پھر بھی وہ آپؐکو نہ دیکھ سکا حالانکہ ان کا معتبر کھوجی ساتھ تھا اور اس نے کہا بھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً یہاں چھپے ہوئے ہیں اور اگر وہ یہاں نہیں تو پھر آسمان پر چلے گئے ہیں۔مگر اس کے اس قدر یقین دلانے کے باوجود دشمن کو اتنی تو فیق نہ ملی کہ وہ جھک کر غار کے اندر دیکھ لے اور وہ ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کرنے کے لئے کفار مکّہ نے ایک سو اونٹ کا انعام مقرر کر دیا (السیرۃ النبویۃ لابن ھشام ھجرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم) یہ اتنا بڑا انعام تھا کہ اس کو حاصل کر نے کے لئے عرب چاروں طرف دوڑ پڑے۔انہوں نے خیال کیا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں مل گئے تو سو اونٹ مل جائیں گے اور گھر کی حالت سدھر جائے گی سو اونٹ اس وقت کے لحاظ سے بڑا بھاری انعام تھا بلکہ آج کل کے لحاظ سے بھی یہ بڑا بھاری انعام ہے۔آج کل گورنمنٹ مجرموں کو پکڑنے کے لئے پانچ پانچ ہزار یا دس دس ہزار روپیہ انعام رکھتی ہے۔اگر سو اونٹ کی قیمت کا اندازہ اس زمانہ کے لحاظ سے کیا جائے تب بھی کم از کم ساٹھ ستر ہزار روپیہ کاانعام بنتا ہے غرض یہ ایک بہت بڑا انعام تھا جس کو حاصل کرنے کے لئے ویسے تو بہت سے افراد باہر نکلے لیکن ایک شخص اتفاقاً اس راستہ پر جاپہنچا جس رستہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔اس شخص نے آپ کو دیکھ لیا اور سمجھ لیا کہ وہ آپ کو پکڑنے میں اب ضرور کامیاب ہو جائے گا۔جس وقت وہ قریب پہنچا تو اچانک اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا۔اس نے عرب کے قدیم دستور کے مطابق اس موقعہ پر فوراً تیر نکال کر فال لی کہ مجھے آگے بڑھنا چاہیے یا نہیں۔فال نکلی کہ نہیں بڑھنا چاہیے مگر سو اونٹ کا انعام تھا رہ نہ سکا۔پھر ایڑ لگا کر پاس پہنچا مگر پھر گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور اب کی دفعہ پیٹ تک دھنس گیا۔وہ گھبرا یا اور سمجھا کہ کوئی اور بات ہے۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہایت ادب سے حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں امان چاہتا ہوں میں اب سمجھ گیا ہوں کہ آپ خدا تعالیٰ کے نبی ہیں۔میں آپ کے تعاقب میں آیا تھا مگر واپس جاتا ہوں۔مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں اور جب آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو ایک نہ ایک دن آپ ضرور غالب آجائیں گے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ایک کاغذکا پرزا لکھ دیں تاکہ جب خدا تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا فرمائے تو میرے ساتھ نیک سلوک کیا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم