تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 413

پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ یعنی کہہ دو میں پناہ مانگتاہوں ربّ الفلق کی یعنی صبح لانے والے اور سورج چڑہانے والے کی۔مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اس کی خرابی سے تو اس میں بتایا کہ مسلمانوں کو ہر چیز ملے گی یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جس قدر نعمتیں پیدا کی ہیں ان سب سے مسلمان حصہ پائیں گے۔اور دنیا کی کوئی ترقی ایسی نہیں ہوگی جو ان کو حاصل نہ ہوگی۔گویا ان کی ترقیات نہایت وسیع ہوں گی۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ آج ہی سے پناہ مانگیں کہ جب مسلمانوں کو ہر قسم کی کامیابیاں نصیب ہوں تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بد نتائج سے محفوظ رکھے۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ میں قومی دعا کے علاوہ فردی طور پر بھی کمال تک پہنچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔چنانچہ ربّ کے معنے ہیں وہ ہستی جو انسان کو تدریجاً ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچاتی ہے۔گویا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِمیں مضمون یہ ہے کہ اے خدا جو ظلمت کے بعد روشنی کو لاتا ہے مجھے بھی ظلمت سے نکال کرروشنی میںلا۔یہ ظاہر ہے کہ اندھیر ے میں پوپھٹتی ہے اور آہستہ آہستہ روشنی ہوتی جاتی ہے اور سورج اوپر آتاجاتا ہے حتی کہ نصف النہار پر چمکنے لگتا ہے۔پس فرمایا۔اے وہ رب جس نے تمام ذاتی کمالات اور ترقی کے سامان جس قدر کہ ضروری تھے انسان میں جمع کر دئیے ہیں اور بتادیا ہے کہ انسان اپنی ذات کو ان ذرائع کے استعمال سے کس طرح مکمل کر سکتا ہے۔اے اپنی ذات میں کامل خدا مجھ کو بھی کمالات حاصل کرنے کی توفیق دے۔اور مجھ کو اپنی صفتِ ربوبیت کے ماتحت اس طور پر کمال دے کہ میں بھی اسی طرح دنیا میں چمکوں جس طرح سورج وسطِ آسمان پر چمکتا ہے۔اور مجھے ہر قسم کے دکھ اور مصیبت سے محفوظ رکھ اور کمال کے حصول میں کوئی مانع نہ ہو۔(۲) فَلَقٌ کے دوسرے معنے ہیں اَلْـخَلْقُ کُلُّہٗ یعنی تمام مخلوقات۔پس قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے معنے ہوں گے میں اس خدا کی پناہ چاہتا ہوں جو تمام مخلوقات کا ربّ ہے یعنی جو ہر چھوٹی بڑی چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔اس آیت میں مخلوقات کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے لفظ فلق کو اختیار کیا گیا ہے اور خلق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا کیونکہ خلق کی نسبت فلق میں ایک زائد مفہوم پایاجاتا ہے۔خلق کا لفظ صرف پیدائش پر دلالت کرتا ہے۔مگر فلق کا لفظ ادنیٰ سے اعلیٰ حالت کی طرف جانے پر بھی دلالت کرتا ہے۔پھر فلق کے معنے تاریکی سے روشنی کی طرف جانے کے بھی ہیں۔اسی لئے فلق صبح کو بھی کہتے ہیں۔پس ایک تاریک چیز جب روشنی کی طرف جاتی ہے تو اسے فلق کہتے ہیں۔خالی خلق کا لفظ اگر کہا جاتا تواس میں یہ اشارہ نہ ہوتا کہ انسانی پیدائش کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت میں منتقل کرنے کا ذکر ہے۔لیکن فلق کہہ کر بتادیا