تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 412

اور دُنیوی ترقیات جن سے لوگ پہلے محروم تھے اب دنیا کو حاصل ہوجائیں گی۔جب سورج طلوع کرتا ہے تو لوگوں میں بیداری کا احساس پیدا ہوجاتا ہے۔لوگ کام کاج کرنے لگ جاتے ہیں اور ترقی کے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔پھر جن چیزوں کے عیوب و نقائص اور خوبصورتی نظر نہ آتی تھی وہ نظر آنے لگتی ہے۔رات کی تاریکی میں بدصورت سے بدصورت اور خوبصورت سے خوبصورت برابر ہوتے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا۔اندھیرے میں سُرخ و سفید، سیاہ، زرد، نیلا اور نسواری سب رنگ یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔لیکن جس وقت سورج چڑھتا ہے تو ان میں خودبخود امتیاز پیدا ہوجاتا ہے۔بدصورت کی بدصورتی اور خوبصورت کی خوبصورتی نظر آنے لگتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب قرآن کریم کی تکمیل کے ساتھ روحانی سورج چڑھ جائے گا۔اس سے عقل میں جو تیزی پیدا ہوگی اس کے ذریعہ اشیاء کا حسن و قبح معلوم ہو گا۔پھر اس سے فائدہ اٹھانے والوںکے لئے ترقیات کے دروازے کھل جائیں گے۔حکومت، شان و شوکت، تجارت، صنعت وحرفت غرض ہر قسم کی ترقی مسلمانوں کو حاصل ہو گی۔لیکن مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح روشنی اپنے ساتھ برکتیں لاتی ہے اسی طرح بلائیں بھی لاتی ہے۔مختلف قسم کی خوبصورتیاں سامنے آکر انسان کو لالچ دیتی ہیں اور اصل راستہ سے بھٹکانا چاہتی ہیں۔اسی طرح روشنی صرف فائدہ کا موجب نہیں بلکہ نقصان کا موجب بھی ہوجاتی ہے۔اس لئے فرمایا۔دیکھو جب سورج چڑھے گا تو کئی قسم کے عیوب ظاہر ہونے کا بھی امکان ہوگا۔دنیوی ترقیات آرام و آسائش اور عیش و عشرت کے ولولے قلوب میں پیداکردیتی ہیں اور دولت سے ناجائز فوائد حاصل کرنے کی خواہش انسا ن کے دل میں رونما ہوجاتی ہے۔پھر روحانی علوم حاصل ہونے او ردنیا کی ان سے محرومی خود پسندی کا موجب بھی بن سکتی ہے۔اسی طرح روحانی و جسمانی خطرات کا احتمال ہے۔گویا روحانی علوم کی ترقی خود پسندی کی طرف لے جا سکتی ہے اور جسمانی ترقیات عیش و عشرت کی طرف۔اس لئے ہم کہتے ہیں قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یعنی صبح ضرور ہوگی اور مسلمانوں کو ذہنی اور روحانی ترقیات حاصل ہوں گی۔سورج ضرور چڑھے گا مگر خطرہ ہے کہ ترقیات کے بدنتائج نہ پیدا ہوں۔گویا وہ وقت جاتا رہا جب یہ خیال کیا جاتا تھاکہ مسلمان کس طرح ترقی کریں گے۔اب تو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ان ترقیات کی وجہ سے وہ ابتلائوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔اسی لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ تم ان جملہ اشیاء کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو جو اس نے پیدا کی ہیں۔گویامِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمانو ں کو ہر چیز ملے گی کیونکہ اس میں ہر چیز کے شر سے بچنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ہر چیز کے شر سے بچنے کی ضرورت اسے ہی ہوسکتی ہے جسے ہر چیز حاصل بھی ہو۔جو شخص گوشت کا استعمال ہی نہیں کرتا اس کی مضرتوں سے بچنے کے لئے اسے مصلح اشیاء کے استعمال کی ضرورت نہیں۔