تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 411
بتایاگیاتھا کہ اسلام کی فتوحات اور غلبہ کی عمارت کی وہ بنیاد جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں رکھی گئی اس بنیاد پر عمارت بنتی چلی جائے گی یہاں تک کہ غلبہ کی عمارت مکمل ہو جائے گی اور اگر کوئی روک پیدا ہوئی تو خس وخاشاک کی طرح اڑجائے گی۔سورۃ الفلق میں یہ بتایاگیا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے غلبہ کو کمال تک پہنچائے اور پھر یہ غلبہ ہمیشہ کے لئے ہو۔کوئی ایسا دشمن نہ کھڑا ہوجائے جو تمہارے غلبہ کی عمارت کو نقصان پہنچائے یا تمہارے اندر افتراق پیدا ہوجائے اور تم اس کی حفاظت نہ کر سکو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے۔وہ زمانہ مشکلات اور مصائب کے لحاظ سے رات کے مشابہ تھا لیکن اس کے بعد آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور کامیابی کی سحر نمودار ہونی شروع ہوگئی۔اور ایک طرف اسلام کی کامیابی کے آثار نظر آنے لگے اور دوسری طرف مشکلات کم ہونے لگیں۔گو صبح کی ابتدائی سفیدی پوری طرح نظر نہیں آتی تھی اور کمزور نظر والا اس کو دیکھ نہیں سکتا تھا لیکن تیز نظر رکھنے والا اس کو دیکھ رہا تھا۔اوروہ اس بات کی خوشخبری پاتا تھا کہ تھوڑی دیر کے بعد سورج کی روشنی ظاہر ہونی شروع ہوجائے گی اور ہر شخص اس کو دیکھ لے گا۔حتی کہ آخر کار سورج نصف النہار پر چمکنے لگے گا۔مدینہ میں آنے سے مسلمانوں پر فجر کا طلوع ہوا۔گو مسلمانوں کو یہ فجر نظر آرہی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اُفق میں روشنی پھیل جائے گی لیکن مخالفوں کی آنکھیں اس کو دیکھنے سے قاصر تھیں آخر یہ روشنی ظاہرہونی شروع ہوئی اور مسلمانوں کو غلبہ ملنا شروع ہو گیا۔حتی کہ ہجرت کے آٹھویں سال مکّہ فتح ہوا اور عرب کے لوگوں کو اسلام کی روشنی نے منور کردیا اور اسلام کی صبح کو سب لوگ دیکھنے لگ گئے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد رسول اللہ ! آپ کو چاہیے کہ آپ ربّ الفلق کی پناہ میں آئیں اور اس طرح اپنی امّت کے ہرفرد کو حکم دیں کہ وہ ربّ الفلق کی پناہ طلب کرے۔ربّ الفلق کے الفاظ میںایک طرف یہ اشارہ ہے کہ تم دعا کرو کہ اسلام کا سورج آہستہ آہستہ اوپر آتا چلاجائے۔یہاں تک کہ وسط آسمان پر پہنچ کر لوگوں کی نظروں کو خیرہ کردے۔اور دوسری طرف یہ بتایا کہ اس ترقی کے زمانہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کی حفاظت طلب کرتے رہنا چاہیے تاتم پر زوال نہ آئے۔قرآن کریم کے مخاطب ایک طرف مومن تھے اور دوسری طرف منکر۔اللہ تعالیٰ نے جہاں اس آیت میں مسلمانوں کو خوشخبری دی وہاں منکروں کو کہاکہ تم کہتے تھے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سورج ہے تو اس کی روشنی ہونی چاہیے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اب ہمارے سورج کی روشنی ظاہر ہونے والی ہے۔روحانی اور جسمانی علوم جو پہلے پوشیدہ تھے ظاہر ہوجائیں گے۔عیوب اور خرابیاں جو تاریکی کی وجہ سے پوشیدہ تھیں اب اس روشنی کے ذریعہ نظر آنے لگیں گی۔