تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 410

سے پناہ میں رہے اور جب وہ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ کہتا ہے تو وہ اپنے گناہ گار ہونے کا بھی اعتراف کرلیتا ہے۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اَعُوْذُ پڑھناان معنی میں نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ معصوم ہیں اس لئے قرآن کریم میں ان سورتوں کو قُلْ کے ساتھ شروع کیا گیا اور اس طرف اشارہ کیا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گناہوں کو دیکھ کر اَعُوْذُ نہیں پڑھتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کر نے کے لئے پڑھتے تھے تا کہ آئندہ آپ کے اور آپ کی جماعت کے خلاف شیطان کوئی کارروائی نہ کر سکے۔نبی کو اپنے ماننے والوںکا اسی طرح فکر ہوتا ہے جس طرح گلہ بان کو اپنی بھیڑوں کا۔بعض اوقات گلہ بان اپنی جان کی حفاظت کا خیال نہیں رکھتا اور اپنے آپ کو مصیبت میں ڈال لیتا ہے مگر بھیڑوں کے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔یہی حالت نبی کی ہوتی ہے وہ اَعُوْذُ اس لئے پڑھتا ہے کہ جو بھیڑیں اس کے سپرد کی گئی ہیں وہ شیطان کے حملہ سے محفوظ ہوجائیں کیونکہ وہ خود تو شیطان کے خطرہ میں نہیں ہوتا مگر اس کی بھیڑیں ضرور خطرہ میں ہوتی ہیں۔الغرض نبی اَعُوْذُ اس لئے پڑھتا ہے کہ شیطان کا اس پر جو حملہ بالواسطہ ہو رہا ہے وہ دور ہوجائے۔کیونکہ نبی کی امت پرحملہ نبی پر ہی حملہ ہوتا ہے۔پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اَعُوْذُ پڑھنا عام لوگوں کے اَعُوْذُ پڑھنے سے مختلف ہے۔سورۃ الفلق اور سورۃ الناس دونوں سے پہلے اَعُوْذُ کا لفظ رکھا گیا ہے۔گویا دونوں سورتیں استعاذہ کے مضمون کو لے کر آئی ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ سے انسان پناہ طلب کرتا ہے اس کے متعلق طبعاً خیال پیدا ہوتاہے کہ جب دونوں سورتیں ایک ہی مضمون پر مشتمل ہیں تو دونوں کو اکٹھا کیوں نہ کر دیا گیا اور کیوں علیحدہ علیحدہ رکھا گیا؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ سورۃ الفلق میں زیادہ تر انسان کے سوا دوسری مخلوقات کی برائیوں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور سورۃ الناس میں زیادہ تر ان فتنوں سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے جن کی ابتدا انسانوں سے ہو۔اور چونکہ یہ دونوں مضمون علیحدہ علیحدہ ہیں اس لئے ان کو علیحدہ علیحدہ سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ربّ کے معنے ہیں وہ ہستی جو انسان کو تدریجاً ترقی دیتے دیتے کمال تک پہنچاتی ہے۔فَلَقٌ کے سات معنے حل لغات میں لکھے جا چکے ہیں اور وہ سارے کے سارے اس جگہ پر چسپاں ہوتے ہیں۔فَلَقٌ کے پہلے معنے اَلصُّبْحُ کے ہیں۔پس رَبِّ الْفَلَقِ کے معنے ہوئے صبح کا رب۔اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کے معنے ہوتے ہیں۔صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔جیسا کہ سورۃ الفلق کے ابتدا میں لکھا جاچکا ہے کہ اس سورۃ کا تعلق سورۃ نصر سے ہے۔سورۃ نصر میں یہ