تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 409

کرنے سے پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ یہاں قُلْ لانے کا کیا مطلب ہے یعنی ان کے نزدیک یہاں صرف اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہنا چاہیے تھا اور اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ پڑھنے والا جب قُلْ کہتا ہے تو اس کے دل میں ان الفاظ سے وہ جوش پیدا نہیں ہوسکتا جو صرف اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہنے سے پیدا ہوسکتا ہے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ؓ جب نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے اور یہ سورتیں پڑھتے تو اسی وجہ سے ان کا طریق یہ تھا کہ وہ کہتے قُلْ۔اور پھر کچھ وقفہ کے بعد یہ الفاظ کہتے اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تو بہت لوگوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ قُلْ نے اس جوش کو دبادیا ہے جو بغیر قُلْ کے پیداہوسکتا ہے۔حالانکہ قُلْ کہہ کر اس جوش کو زیادہ کیا گیا ہے نہ کہ کم۔قُلْکے بعد اَعُوْذُ لانے کا یہ مطلب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس حکم کے مخاطب ہیں اور اَعُوْذُ کہنے میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اوّل المخاطبین ہے۔اگر قُلْ کے بغیر اَعُوْذُ ہوتاتو اَعُوْذُ کہنے والی صرف ہماری ذات ہوتی اور اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہہ کر ہر انسان اپنی ذات مراد لیتا تو بعض لوگ جیسا کہ پنجابی میں مشہور ہے کہہ دیتے ہماتڑاں دا کی ہے۔یعنی ہمارا اَعُوْذُ کہنا کیا حقیقت رکھتا ہے لیکن جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ کہلوایا کہ تم لوگوں کو کہہ دو کہ میں جس مقامِ ترقی پر پہنچ چکاہوں اس کے باوجود میں بھی ربّ الفلق کی پناہ مانگتا ہوں۔تو اُمّتِ مسلمہ کے افراد اَعُوْذُ کی اہمیت کو زیادہ عمدگی سے سمجھ سکتے تھے۔عام حالات میں انسان خیال کرسکتا ہے کہ اَعُوْذُ ادنیٰ درجہ کے آدمیوں کے لئے ہے۔لیکن قُلْ کہہ کر بتادیا کہ ہمارے اس حکم کے پہلے مخاطب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور وہ کہہ رہے ہیں کہ میں بھی اَعُوْذُ سے مستغنی نہیں بلک عمداً اَعُوْذُ کہہ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک رہاہوں۔پس قُلْ کہہ کر جوش کو کم نہیں کیاگیا بلکہ اس عظیم الشان انسان کے منہ سے اَعُوْذُ کہلوا کر جو کمالاتِ روحانیہ کا نقطۂ مرکزی ہے اس کی اہمیت کو زیادہ کیا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا نبی بھی اَعُوْذُ کا محتاج ہے تو تم کیوں نہیں۔یہاں پر یہ سوال پیداہو سکتا ہے کہ اَعُوْذُ کا مفہوم یہ ہے کہ یاالٰہی میری کمزوریوں کی وجہ سے مجھ پر شیطان کا تسلّط ہو رہا ہے اس لئے میں تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس مفہوم کے اعتبار سے استغفار اور اَعُوْذُ ہم معنی بن جاتے ہیں۔گویا اَعُوْذُ پڑھنے والا اپنے گناہ گار ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے پردہ پوشی چاہتاہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ میرا شیطان مسلمان ہوگیا ہے(مسلم کتاب صفۃ القیامۃ باب تحریش الشیطان)۔پس آپ کے اَعُوْذُ پڑھنے کا کیا مطلب؟ اس سوال کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ بے شک ایک عام انسان تو اس لئے اَعُوْذُ پڑھتا ہے کہ وہ شیطان