تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 408

اسے تباہ کرنا چاہے تو اسے کچھ دیر لگے۔اس وقت پٹھانوں کا لشکر جو اس سے شکست کھا چکا تھا آہستہ آہستہ اس کے پیچھے آرہاتھا۔مگر بدلہ لینے کے لئے نہیں کیونکہ بدلہ لینے کی اس میں ہمت نہ تھی۔بلکہ اس لئے کہ اگر ہمایوں کی فوج کا اِکادُکا سپاہی مل جائے تو اسے مار دیں جیسے کہ گوریلا وار فیئر ہوتی ہے۔گوریلا دراصل ایک بندر ہے جو چھپ چھپ کر حملہ کرتا ہے۔اسی مناسبت سے اب یہ نام اس لڑائی کو دے دیا گیا ہے جس میں چھپ کر دشمن پر حملہ کیا جائے۔وہ بھی اسی طرح پیچھے پیچھے چھپ کر آرہے تھے۔مگر چونکہ ان کا کوئی لیڈر نہیں تھا اس لئے وہ متفقہ حملہ نہیں کرسکتے تھے۔جوںہی بادشاہ کے منہ سے یہ فقرہ نکلا، ایک افغانی حکمران شیر شاہ سوری جس کو ہمایوں قید کر کے ساتھ لے جا رہا تھا اس نے یہ فقرہ سن لیا۔اس کو اس قدر غیرت آئی کہ اس نے زور سے جھٹکا لگایا تو وہ رسّہ جس سے وہ بندھا ہوا تھا ٹوٹ گیا۔اوروہ بھاگ کر اپنے افغان لشکر سے مل گیا۔چونکہ انہیں ایک لیڈر کی ضرورت تھی اس لئے جب یہ پہنچ گیا تو انہوں نے باہمی مشورہ کے بعد یک دم ہمایوں کی فوج پر شب خون مارا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لشکر اس طرح بکھرکر بھاگا کہ بادشاہ کو اپنی جان بچانی مشکل ہوگئی اور جیسا کہ تاریخ پڑھنے والے جانتے ہیں ہمایوں جان بچانے کے لئے گھوڑے پر سوار ہو کر دریا میں کود پڑا۔مگر جب گھوڑا منجدہار میں پہنچا تو تھک کر ڈوب گیا۔اب ہمایوں بھی ڈوبنے لگا اس وقت ایک سقّہ نے آدھے دن کی بادشاہت کے وعدہ پر اس کی جان بچائی۔اس کے بعد ہندوستان میں اس کے پائوں نہیں ٹکے بلکہ بھاگ کر ایران چلا گیا(تاریخ ہندوستان ہمایوں اور شیر شاہ سوری)۔تو دنیوی لحاظ سے ترقی کرو یا دینی لحاظ سے جہاں کبر آیا وہاں انسان تباہ ہوگیا۔اس لئے قرآن کریم کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اَعُوْذُ رکھا ہے اور اس طرح یہ نصیحت کی ہے کہ دیکھو تم نے قرآن کریم کو پڑھا اس پر غور کیا اس کے مطالب کو سمجھا اور روحانیت میں ترقی حاصل کی۔لیکن یادرکھو جہاں تم نے یہ سمجھا کہ اب اس کے بعد تمہیں دوسروں پر کوئی فوقیت حاصل ہوگئی ہے۔اور تم کبر میں مبتلا ہوگئے وہی تمہاری تباہی کا دن ہوگا۔اس لئے جب بھی تم کوئی دینی یا دنیوی کام کرو خدا تعالیٰ کی طرف نظر رکھو اور جب اس کا م کو ختم کر لو تب بھی خدا تعالیٰ پر نظر رکھو۔اس میں یہ پیشگوئی بھی معلو م ہوتی ہے کہ مسلما ن آخری دنوں میں اپنی فتوحات پر جو ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملیں گی متکبر ہو جائیں گے اور اس کے نتیجہ میں پھر طرح طرح کی تباہیاں ان پر نازل ہونی شروع ہو جائیں گی پس ان کو چاہیے کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھتے رہا کریں۔تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو تکبّر سے بھی بچائے اور دلی وساوس سے بھی بچائے تاکہ وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوجائیں۔ایک لطیف بات جو یاد رکھنے کے قابل ہے یہ ہے کہ اَعُوْذُ کے لفظ سے پہلے قُلْ کا لفظ لایاگیا ہے۔بعض لوگ غور