تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 407

کیا ہے تو میری ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے اور میرے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ میں پہلے سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو ہوئی۔نجات کا ذکر تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔یا رسول اللہ ہمیں تو اپنی نجات کے لئے اعمال کی ضرورت ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لئے نجات مقدر ہے تو آپ کو اعمال کی کیا ضرورت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صحیح نہیں۔میری نجات بھی اس کے فضل سے ہی وابستہ ہے۔تو انسان کتنا ہی اعمال صالحہ میں ترقی کرے اور کتنے بڑے بلند مدارجِ روحانیہ پر پہنچ جائے پھر بھی ایسے پہلو باقی رہ جاتے ہیں جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت سے باہر نہیں نکل سکتا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے نجات حاصل کروں گا تو اور کون ہے جویہ دعویٰ کرسکے کہ میں اتنابڑا ہو گیا ہوں کہ اب میں خدا تعالیٰ کی رحمت سے مستغنی ہو گیا ہوں اور مجھے اس کے فضل کی ضرور ت نہیں رہی۔بلکہ اپنے زور سے ترقی حاصل کر لوں گا مگر باوجود اس کے کہ مسلمانوں کویہ تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہیں اور اس سے اس کی اعانت طلب کرتے رہیں۔اگر وہ چند دن بھی نیکی کا کوئی کام کرتے ہیں تو کبر اور خود پسندی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔تھوڑے دن نمازیں پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ پر احسان جتانے لگ جائیں گے۔چند روزے رکھیں گے تو سمجھ لیں گے کہ اب خدا تعالیٰ پر احسان ہو گیا اور اب اس کا فرض ہوگیا ہے کہ وہ ان کی خواہش پوری کرے۔چند ہ دیا تو اس وہم میں مبتلا ہونے لگیں گے کہ اب خدا تعالیٰ پر ان کاحق قائم ہوگیا ہے اور اگر وہ کوئی امتیازی سلوک ان سے نہیں کرتا تو نعوذ باللہ مجرم ہے۔یہی چیزیں ہیں جو انسان کو تباہ کردیتی ہیں اور جب کسی کے اندر یہ روح پیداہوجائے تو چاہے وہ ترقی کے تمام مدارج طے کر چکا ہو اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں۔اور وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔پس انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہیے تا وہ کسی موقعہ پر بھی کبر میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم نہ ہو جائے۔کبر ابتدا میں بھی انسان کو نیکی سے محروم رکھتا ہے یعنی جب اس کے سامنے کوئی بات پیش کی جائے تو وہ اسے سن نہیں سکتااور کبر انتہا میں بھی انسان کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے کیونکہ انسان یہ سمجھنے لگتاہے کہ اب وہ ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت نہیں۔ہندوستان کا ایک مشہور بادشاہ ہمایوں گذراہے جب اس نے بنگال میں افغانوں کے سوری خاندان کو شکست دی۔تو اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا۔صوبہ بہار میںسے وہ گذر رہا تھا کہ ایک دریا کے کنارے جب اس نے اپنے لشکر کو دور دور تک پھیلا ہوا دیکھا تو اس کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ یہ اتنا بڑا لشکر ہے کہ اگر خدا بھی