تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 406

مطالب پر حاوی ہے اور اس میں مضرات سے بچنے کے لئے کامل دعا سکھلائی گئی ہے۔اور یہ اس شخص کی ذہنی کیفیت کے مطابق ہے جو سارے قرآن کریم کو پڑھ لیتا ہے۔اور ہر اونچ نیچ کا اسے علم ہو جاتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں چیز سے بچنا چاہیے اور فلاں فلاں قسم کی چیز کا طالب ہونا چاہیے۔پس ہر دو اَعُوْذُ خاص حکمتوں پر مشتمل ہیں۔قرآن کریم کے شروع اور آخر میں اَعُوْذُ پڑھنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص مکان بناتے وقت نیک لوگوں کے ہاتھوں سے بنیاد رکھوائے اور عمارت کی تکمیل پر پھر دعا کرائے۔یہی حال نیکی کاہے جب کوئی انسان نیکی کی عمارت کھڑی کرنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ پہلی اینٹ خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے رکھوائے۔اسی طرح ضروری ہے کہ جب وہ نیکی کی تعمیر پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے تو اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے آخری اینٹ رکھائے۔پس جو اَعُوْذُ ہم قرآن کریم کے ابتدا میں پڑھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے اپنی نیکی کی بنیاد رکھواتے ہیں اور جب آخر میں اَعُوْذُ پڑھتے ہیں تو گویا خدا تعالیٰ کے ہاتھوں اس تقویٰ کے مکان کا افتتاح کراتے ہیں۔جب تک یہ دونوں باتیں نہ ہوں ایمان کی عمارت مکمل نہیں ہوسکتی۔یہ ایک گُر ہے جو ہمیں اَعُوْذُ پڑھنے کے حکم میں بتایا گیا ہے۔۳۔پھر قرآن مجید کے ابتدا میں اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم دینے اور آخر میں اَعُوْذُ نازل کرنے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دنیوی امور کا تو کیا ذکر ہے دینی امور کی ابتدا بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ سے ہونی چاہیے اور ان امور کی انتہا بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ پر ہونی چاہیے کیونکہ کوئی شخص کتناہی دینی معاملات میں دسترس رکھتا ہو اور کتنا ہی اللہ تعالیٰ کا عرفان اسے حاصل ہو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی حفاظت سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جو نہ صرف تمام انسانوں بلکہ تمام نبیوں کا سردار تھا اور جو مخلوق کے پیدا ہونے کا اصل موجب تھا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس امر کو مدّ ِنظر رکھ کر پیدا کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اس سے ظاہر ہونے والا ہے جس کا ذکر ایک حدیث قدسی میں اس طرح آتا ہے کہ لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ۔یعنی اے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر تیرا وجود نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان اور مخلوق کو پیدا نہ کرتا۔اتنے بڑے وجود کے متعلق بھی احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں اتنی اتنی دیر خدا تعالیٰ کے حضورکھڑے رہتے کہ آپ کے پائوں سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ کیفیت دیکھی تو ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ جب آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ خدا تعالیٰ نے معاف کردئیے ہیں تو آپ کو تہجّد میں اس قدر کھڑے ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ آپؐنے فرمایا اے عائشہؓ کیا میں عبد شکور نہ بنوں(بخاری کتاب التھجد باب قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم باللیل)۔یعنی جب خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس قدر فضل