تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 379
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتاہوں) قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ۰۰۲ (ہم ہر زمانہ کے مسلمان کو حکم دیتے ہیں کہ ) تُو (دوسرے لوگوں سے ) کہتا چلا جا کہ (پکی اوراصل ) بات یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلاہے۔حلّ لُغات۔ھُوَ :۔ھُوَ اسم ضمیر ہے جو واحد مذکر غائب کے لئے استعمال ہوتاہے۔اردو میں اس کے معنے ’’وہ ‘‘ کے ہوتے ہیں لیکن قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ میں ھُوَ وہ کے معنوں میں نہیں ہے۔کیونکہ وہ کے معنے تب ہوتے جب ھُوَ سے پہلے کسی ایسی چیز کا ذکر ہوتا جس کے قائم مقام وہ بن جاتا۔یہاں پر ھُوَ ضمیر شان ہے۔اور اس کے معنے ہیں۔حق یہ ہے، سچ یہ ہے، شان یہ ہے۔اصل پکی بات یہ ہے کہ اللہ اَحَدٌ ہے۔اَللّٰہُ :۔اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جو ازلی ابدی اور الحی القیوم ہے اور مالک و خالق اور رب سب مخلوق کا ہے اور اسم ذاتی ہے نہ کہ اسم صفاتی۔عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس خالق ومالک کل کا کوئی ذاتی نام نہیں پایا جاتا۔صرف عربی میں اللہ ایک ذاتی نام ہے جو صرف ایک ہی ہستی کے لئے بولا جاتا ہے اور بطور نام کے بولا جاتا ہے۔اللہ کا لفظ اسم جامد ہے مشتق نہیں ہے۔یعنی نہ یہ اور کسی لفظ سے بناہے اور نہ اس سے کوئی اور لفظ بنا ہے۔اَحَدٌ:۔عربی زبان میں دو الفاظ ’’ایک ‘‘ کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ایک ’’واحد‘ ‘ کا لفظ اور دوسرا’’اَحَدٌ‘ ‘ ہے۔اَلْوَاحِدُ کے متعلق لغت میںلکھا ہے اَلْوَاحِدُ اَوَّلُ الْعَدَدِ یُقَالُ وَاحِدٌ، اِثْنَانِ، ثَلَاثَۃٌ۔(اقرب) یعنی عربی زبان میں واحد وہ عدد کہلاتا ہے جس سے آگے اور عدد چلتے ہیں یعنی دو، تین، چار۔لیکن اَحَدٌ کا لفظ عربی میں اس وقت بولا جاتا ہے جب دوسرے عدد کا ذہن میں کوئی مفہوم ہی پیدا نہ ہو۔مثلاًاردو میں اس کی مثال لفظ ’’اکیلا‘‘ ہے اور انگریزی میں اس کو کہتے ہیں Oneness گویا جب ہم کہتے ہیں ایک تو اس کے ساتھ دو، تین، چار، پانچ کا مفہوم بھی ذہن میں آتا ہے۔لیکن جب کہتے ہیں اکیلاتو اس کے آگے دو کیلا، تکیلا کوئی لفظ نہیں ہوتا۔اقرب میں ہے کہ اَلْفَرْقُ بَیْنَ الْاَحَدِ وَالْوَاحِدِ اَنَّ الْاَحَدَ اِسْـمٌ لِّمَنْ لَّا یُشَارِکُہٗ شَیْءٌ فِیْ ذَاتِہٖ