تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 378

کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سن کر خاموش ہوجاتے۔پس یہ شان نزول جو سورۃ الاخلاص کا بیان کیا جاتا ہے عقلاً درست معلوم نہیں ہوتا۔تیسری روایت یہ آتی ہے کہ یہ سوال عیسائیوں کی طرف سے تھا۔جب وفد نجران مدینہ میں آیا تو انہوں نے کہا۔صِفْ لَنَا رَبَّکَ اَمِنْ زَبَرْجَدٍ اَوْ یَاقُوْتٍ اَوْ ذَھَبٍ اَوْ فِضَّۃٍ فَقَالَ اِنَّ رَبِّیْ لَیْسَ مِنْ شَیْءٍ لِاَنَّہٗ خَالِقُ الْاَشْیَائِ فَنَزَلَتْ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ۔(تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ الاخلاص ) یعنی ہمارے لئے اپنے رب کا حال بیان کرو کہ وہ زبرجد کا بناہواہے یا یاقوت کا یا سونے کا یا چاندی کا۔اس سوال کو سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے بناہوا نہیں ہے کیونکہ یہ سب اس کی مخلوق ہیں اور وہ خالق ہے۔بعد ازاںسورۃ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ نازل ہوئی جس میں عیسائیوں کے سوال کا جواب بیان ہواہے۔یہ روایت بھی عقلاً درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ عیسائی بھی خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں۔گو اس کے ساتھ بیٹا خدا اور روح القدس خدا کا عقیدہ رکھتے ہیں۔لیکن وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ باپ خدا سونے چاندی اور یاقوت وغیرہ کا مجسمہ نہیں۔پس ان کی طرف سے اس سوال کا ہونا عقلاً بعید ہے۔الغرض سورۃ الاخلاص کے متعلق جوروایات اس کے سبب نزول کے متعلق بیان کی جاتی ہیں وہ محض قیاسی ہیں۔او رکوئی بھی ان میں سے ایسی وجہ نہیں جس کی بنا پر اس عظیم الشان سورۃ کا نزول ہوتا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اختصار کے ساتھ اپنی توحید کا اعلان فرمایا تاکہ ہر چھوٹا اور بڑا مسلمان اس کو سمجھ لے اور ذہن میں اس کو مستحضر رکھے اور ہر مجلس میں اس کا اعلان کرنا اپنا فرض خیال کرے۔غالباً جن لوگوں نے شان نزول کے متعلق روایات بیان کی ہیں ان کو اس کا شان نزول ڈھونڈنے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی ہے کہ اس سورۃ سے پہلے قُلْ کا لفظ استعمال ہواہے جس سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ یہ کسی سوال کا جواب ہے۔حالانکہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہواہے کسی سوال کے جواب میں ہواہے۔بلکہ عام طور پر جہاں پر یہ لفظ آتا ہے وہاں یہ حکم ہوتاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اُمت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اس کے بعد بیان ہونے والے امر کا پوری طرح لوگوں میںاعلان کرتے جائیں اور اس کے بیان کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔