تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 372

سے پاک ہوگیا۔پھر آپ نے فرمایا جس شخص نے سو مرتبہ اس سورۃ کو نماز میں یا اس کے علاوہ پڑھا تو وہ آگ سے محفوظ ہو گیا۔۱۶۔سورۃ المذکّر ہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو یاد دلاتی ہے۔۱۷۔سورۃ النور۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔اِنَّ لِکُلِّ شَیْءٍ نُوْرًا وَّ نُوْرُ الْقُراٰنِ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ کہ ہر چیز کا ایک نور ہوتاہے اور قرآن کا نور قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ہے۔۱۸۔سورۃ الامان۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ توحید کو ماننے والا قلعہ میں داخل ہوجاتا ہے اور اس سورۃ میں توحید کا ذکر ہے پس یہ عذاب سے امن میں رکھنے والی ہے۔۱۹۔سورۃ المنفّرۃ۔یعنی شیطان کو بھگانے والی۔(تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ الاخلاص) فضائل سورۃ اخلاص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو ثلث قرآن قراردیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔مَنْ قَرَأَ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ فَکَاَ نَّـمَا قَرَأَ ثُلُثَ القُراٰنِ۔(تفسیر کبیر لامام رازی سورۃ الاخلاص) یعنی جس نے سورۃ الاخلاص کو پڑھا تو گویا اس نے قرآن کریم کے تیسرے حصہ کو پڑھا۔نیز ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنَّـھَا لَتَعْدِلُ ثُلُثُ الْقُراٰنِ۔(روح الـمعانی سورۃ الاخلاص) یعنی وہ ذات جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس کی قسم کھاکر کہتا ہوںکہ سورۃ الاخلاص قرآن کریم کے تیسرے حصہ کے برابر ہے۔اس سورۃ کے ثلثِ قرآن ہونے سے یہ مرا دنہیں کہ یہ سورۃ قرآن کریم کے حجم کا تیسرا حصہ ہے۔بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کامضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث کو پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ آخری زمانہ میں دوبڑے فتنے پیدا ہونے والے تھے۔ایک دجّالی فتنہ اور دوسرا یاجوج و ماجوج کا فتنہ۔اور ان دونوں فتنوں نے یکے بعد دیگرے اسلام کے ساتھ ٹکر لینی تھی۔ایک فتنہ خدائے واحد کی بجائے تین خدائوں کاعقیدہ لئے ہوئے ہے یعنی خداباپ، خدا بیٹا، خدا روح القدس۔اور دوسرا فتنہ دہریت کا ہے۔یعنی وہ سرے سے خدا کا منکر ہے۔قرآن کریم نے ان ہر دو فتنوں کے عقائد کی تردید کی ہے اور صحیح عقائد کو بیان فرمایا ہے۔قرآن کریم خدا باپ کی تعریف سے بھر اہوا ہے اور اسی طرح سے خدا باپ کے رب ہونے اور ایک ہونے کی تائید کرتا ہے۔اور خدا روح القدس اور خدا بیٹے کی نفی پورے زور سے کرتا ہے۔گویا قرآن کریم نے خدا باپ کی خدائی کو قائم کیا ہے اور خدا بیٹے اور خدا روح القدس کی تردید کی ہے۔اس لئے یہ صاف بات ہے کہ چونکہ خدا باپ کی تائید قرآن کریم