تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 342

خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ نصر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِستَغْفِرہُ کا حکم دینے سے مراد یہ ہے کہ آپ دعا کریں کہ فتوحات کے نتیجے میں جوخرابیاں اُمّت محمدیہ میں پیدا ہو سکتی ہیں اللہ تعالیٰ خود ان کی اصلاح کا انتظام فرماوے۔اور وہ آیات جہاں اِسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ کے الفاظ کہے گئے ہیں ان میں یہ حکم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ آپ کے زمانہ میں جو فتوحات ہوں گی اور جن کے نتیجہ میں کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی تربیت پوری طرح کرنے کی توفیق دے اور اگر تربیت میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کمی کے نتیجہ میں جو خرابی پیداہو سکتی ہے اس کے بد نتائج سے بچا لے۔اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا:۔تَابَ کے معنے ہوتے ہیں فضل کے ساتھ رجوع کیا اور توّاب مبالغہ کا صیغہ ہے اس لئے اس کے معنے ہوں گے باربار فضل کے ساتھ رجوع کرنے والا۔گویا اس حصۂ آیت میں اس مضمون کو ادا کیا گیا ہے کہ اے محمد رسول اللہ ! اگر آپ دعائوں میں لگ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی دعائوں کو ضرور سنے گا اور اپنے فضل کے ساتھ آپ کی قوم پر بار بار رجوع کرے گا۔نبوت، صدیقیت، شہیدیت اور صالحیت چار روحانی انعام ہیں جن کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ان انعاموں کا ملنا خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًا۔ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِيْمًا۔( النسآء:۷۰،۷۱) یعنی جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کرے گا تو وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہو جائے گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا یعنی نبی، صدیق، شہید اور صالح اور ان مقامات کا ملنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بوجہ علیم ہونے کے پوری طرح جانتا ہے کہ کون ان فضلوں کا مورد ہونے کا اہل ہے۔اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا میں اسلام کی حفاظت کی پیشگوئی پس اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا کے الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جب بھی آپ کی قوم کو حفاظت کی ضرورت ہوگی جب بھی کسی اصلاح کی ضرورت ہوگی اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت اور اصلاح کے ذرائع پیدا کردے گا اور اس خرابی کے مناسبِ حال شخص پیدا کر دے گا۔چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سنی گئی اور امّت میں جب بھی کوئی خرابی پیدا ہوئی تو اس کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مناسب حال شخص کھڑا کردیا۔چنانچہ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے جب