تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 341

آیا ہے جو اس سفر میں شامل نہ ہوئے تھے۔پس شام کا اس فتنہ میں شامل نہ ہونا امیر معاویہ کی دانائی کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لئے تھاکہ وہاں اسلام کا بیج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بویا گیا اور اس سرزمین میں آپؐنے قدم مبارک ڈالاتھا۔پس خدا تعالیٰ نے آپؐکی دعائوں میں اس ملک کو بھی شامل کر لیا۔اس عظیم الشان فتنہ میں اس قدر صحابہ میں سے صرف تین صحابہ کے شامل ہونے کا پتہ لگتا ہے۔اور ان کی نسبت بھی ثابت ہے کہ صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے شامل ہوگئے تھے اور بعد میں توبہ کر لی تھی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوئی۔اس لئے جہاں آپؐکی فتح کا ذکر آیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام میں کثرت سے لوگ داخل ہونے والے ہیں وہاں ساتھ ہی استغفار کا حکم بھی آیا ہے۔جو آپؐکو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے تھا کہ ہم آپ کو غلبہ اور عزت دینے والے ہیں اور بے شما رلوگ آپ کے ساتھ شامل ہونے والے ہیں۔پس یادرکھیں کہ جب آپ کے پاس بہت سے شاگرد ہو جائیں تو آپ خدا تعالیٰ کے حضور گرجائیں اور عرض کریں کہ الٰہی اب کام انسانی طاقت سے بڑھتا جاتا ہے۔آپ خود ہی ان نوواردوں کی اصلاح کر دیجئے۔ہم آپ کی دعا قبول کریں گے اور ان کی اصلاح کردیں گے اور ان کی کمزوریاں اور بدیاں دور کر کے ان کو پاک کردیں گے۔پس قرآن کریم کی وہ آیات جن میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ذنب کے لئے استغفار کرنا چاہیے۔اس سے یہ ہر گز مراد نہیں کہ آپ سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے اوراس کے لئے آپ کو استغفار کرنا چاہیے بلکہ اس سے صرف یہ مراد ہے کہ فتوحات کی وجہ سے اور اسلام میں لوگوں کے کثرت سے داخل ہونے کی وجہ سے جو تربیت کا کام بڑھنے والا ہے اور وہ آپ کی طاقتوں سے زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو باحسن وجوہ سرانجام دینے کی طاقت عطاکرے اور اگر اس میں کوئی کمزوری رہ جائے تو اس پر پردہ ڈال دے اور اس کی اصلاح اس طور پر کردے کہ کوئی برا نتیجہ پیدا نہ ہو۔اور چونکہ یہ نومسلموں کی تربیت کا کام صحابہ اور صحابیات نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے ماتحت کرنا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ محمدؐ کی آیات میں یہ بھی فرما دیا کہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ آپ کے ماتحت جو مربی کام کرنے والے ہیں ان کے لئے بھی دعا کردیں کہ وہ صحیح رنگ میں تربیت کر سکیں اور اگر ان کی تربیت میںکوئی نقص رہ جائے تو اس کا بد نتیجہ نہ نکلے بلکہ اس کی بھی پردہ پوشی ہوجائے۔