تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 333

سے ملتا ہی نہیں بلکہ اس کا محبوب بن جاتا ہے اور وہ شخص جو دنیا کے لئے ایک نمونہ تھا اور جس کے اقوال و افعال خدا کے اقوال وافعال تھے اس کا استغفار ان معنوں میں نہیں ہو سکتا کہ اس سے کوئی گناہ سرزد ہواتھا اور اس نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس گناہ کی سزا سے بچا لے۔کیونکہ یہ ظاہر بات ہے کہ اگر وہ بھی گناہ کا مرتکب ہو سکتا تھا تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کا کیوں حکم دیا اور اسے دنیا کے لئے نمونہ کیوں قرار دیا؟ پس آپؐکو نمونہ قرار دینے کے معنے ہی یہ ہیں کہ آپؐہر ایک بدی اور گناہ سے پاک تھے۔گویا آپؐکا استغفار گناہوں کی سزا سے بچنے کے لئے نہ تھا بلکہ کسی اور معنے میں تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کون سے معنے ہیں جن کو ادا کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔سوجاننا چاہیے کہ زیر تفسیر سورۃ کی ابتدائی دوآیات میں یہ مضمون بیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مسلمانوں کی نصرت کا سلسلہ جاری رہے گا اور فتوحات کے دروازے ان کے لئے کھول دئیے جائیں گے۔اور قومیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح برکت پائیں گی جس طرح آپ کی زندگی میں لوگوں نے برکت پائی تھی۔گویا ان آیات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ آئندہ زمانہ میں ہزاروں ہزار لوگ اسلام میں ایک وقت میں داخل ہوا کریں گے اور یہ ظاہر ہے کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور بُرائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گذرتی ہے ان کے عیش و عشرت کے جذبات اپنے اندر لے لیتی ہے اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعداس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق ہوتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی سطح پر لانا مشکل ہوتا ہے۔اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو اخلاقی طور پر نفع پہنچانے کے خود اس کے بدا ثرات سے متاثر ہوجاتے ہیں۔جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے اور درحقیقت جس وقت کوئی قوم ترقی کرتی اور کثرت سے پھیلتی ہے۔وہی زمانہ اس کے تنزل اور انحطاط کابھی ہوتا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان فتوحات کی خبر کو معلوم کر کے طبعی طور پر متفکر ہو سکتے تھے کہ ان فتوحات کے ساتھ ساتھ کہیں مسلمانوں میں انحطاط تو شروع نہ ہو جائے گا اور وہ لوگ جو اسلام میں نئے داخل ہوں گے ان کی پوری طرح تربیت کا کیا سامان ہو گا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کامل استاد اور نفوس کا تزکیہ کرنے والا اور کامل راہنما ان کو میسر نہ ہوگا۔پس ان خیالات کے جواب کے طورپر اللہ تعالیٰ نے اِسْتَغْفِرْہُ کے الفاظ نازل فرمائے اور بتایا کہ اے محمدرسول اللہ ! جب