تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 318

هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ ( الانفال: ۴۳) اگر سٹائل کو مدّ ِنظر رکھ کر سورتوں کے مکی او رمدنی ہونے کا فیصلہ کیا جائے تو یہ سورۃ مکی ہونی چاہیے۔حالانکہ یہ آیت سورۃ انفال میں ہے جو قطعی طور پر مدنی ہے۔بلکہ اس وقت کے قریب نازل ہوئی تھی جب مکہ فتح ہواتھا۔پس سٹائل والی باتیں محض ڈھکونسلا ہیں نہ یہ کوئی قانون ہے اور نہ مستشرقین کو اتنی عربی آتی ہے کہ ان کی بات کو معقول قرار دیا جا سکے۔وہیری کے خود ساختہ غلط معیار پر جب سورۃ نصر پوری نہیں اتری تو اس نے کہہ دیا کہ گویہ سورۃ مکہ میں بنائی گئی تھی لیکن اپنے سٹائل کے لحاظ سے یہ مدنی سورتوں سے ملتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم خدائے علیم و خبیر کی نازل کردہ کتا ب ہے اور یہ کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے اور کسی خاص جگہ و مقام کی وجہ سے اس کے طرزِ بیان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔پس سٹائل سے کسی سورۃ کے مکی اور مدنی ہونے کا اندازہ لگانا ایک غلط طریق ہے جس کو مستشرقین نے اختیا رکیا ہے۔وہیری نے نولڈ کے کی اس رائے کو بھی لکھا ہے کہ یہ سورۃ اس وقت بنائی گئی تھی جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پر حملہ کے لئے تیارتھے اور آپؐکو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔گویا یہ بتانا مقصود ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالات کو دیکھ کر کہہ دیا کہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔نولڈکے کی یہ رائے بھی محض تعصب کی بنا پر ہے۔بھلا اگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورۃ آئندہ حالات کو قیاس کر کے بنائی تھی تو آپؐنے ابتدائی مکی زندگی میں یہ قیاس کس طرح کر لیا کہ میری مخالفت اس قدر شدت اختیار کر جائے گی کہ ایک وقت وہ بھی آجائے گا جب آپؐمکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو ں گے اور ہجرت کے کچھ عرصہ بعد فاتحانہ شان میں مکہ میں داخل ہوں گے اور پھر مکہ کو آپؐمرکز نہیں بنائیں گے بلکہ مدینہ میں ہی قیام فرمائیں گے۔ایک انسان تو یہ بھی نہیں جانتا کہ آئندہ آنے والے دن میں کیا وہ زندہ بھی رہے گا یا نہیں۔لیکن اتنی تحدّی سے ایسے حالات کا بیان کرنا جو واہمہ میں بھی نہیں آسکتے کسی قیاس کی بنا پر نہیں ہو سکتا۔چنانچہ سورۃ البلد جو مکی سورۃ ہے اور مستشرقین اس کو ابتدائی مکی قرار دیتے ہیں۔اس میں لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ( البلد:۲،۳) کے الفاظ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے ہجرت کرنے اور پھر مکہ کو فتح کر کے اس میں عارضی قیام کی خبر دی گئی ہے۔اسی طرح سورۃ قصص مکی سورۃ ہے اور اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی پیشگوئی ہے اور اس کے بعد کہا گیا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ( القصص:۸۶) اے محمد رسول اللہ وہ خدا جس نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے وہ تمہیں فاتحانہ شان سے واپس مکہ لائے گا۔پس یہ ساری باتیں غیب کی ہیں جو انسانی قیاس میں نہیں آسکتیں اور نہ انسانی دماغ ان کو سوچ سکتا ہے۔پس ان غیب کی باتوںکو سامنے رکھ کر اس بات کومانے بغیر چارہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق خدائے علیم و خبیر سے تھااور