تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 317
گھبرائیںنہیں۔کیونکہ اسلام کی فتوحات کا سلسلہ بند نہیں ہوگا بلکہ جاری رہے گا۔اور اسلام دنیا پر غالب آجائےگا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ چونکہ آئندہ اسلام میں لوگ گروہ درگروہ داخل ہونے والے ہیں۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان نو مسلموں کے لئے دعا کرنی چاہیے۔تاان کی صحیح تربیت ہو کر اسلام میں کسی خرابی کی بنیاد نہ پڑے اور اگر کوئی خرابی پیدا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کا سامان پیدا کردے۔سورۃ نصر کے متعلق بعض مستشرقین یورپ کی آراء کی تردید پادری وہیری نے اپنی کتاب کمنٹری اون قرآن میں سورۃ نصر کے ماتحت بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گویہ سورۃ مکہ میں بنائی گئی تھی ( جیسے کہ جنگِ حنین کے بعد نازل ہونے کی روایات بیان ہوئی ہیں ) لیکن اس کا سٹائل اور طرز بیان مدنی سورتوں کے ساتھ ملتا ہے۔پھر نولڈ کے کی رائے بیان کرتا ہے کہ اس کی رائے یہ ہے کہ یہ سورۃ اس وقت بنائی گئی تھی جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) مکہ پر حملہ کرنے کے لئے بالکل تیار تھے اور ان کو اپنی طاقت پر پورا بھروسہ تھا اور آپ کو فتح کے آثار نظر آرہے تھے۔اس لئے یہ سورۃ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کی کامیابی کی امید کو ظاہر کرتی ہے۔اس کے بعد وہیری لکھتا ہے کہ ان امور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ سورۃ ۸ ھ کی ہے۔مستشرقین یورپ اور دیگر پادری صاحبان چونکہ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بنائی ہوئی کتاب قراردیتے ہیں اس لئے وہ عام طور پر سورتوں کے سٹائل کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ مکی ہے یا مدنی۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ فلاں سورۃ کا سٹائل اس قسم کا ہے جیسے مکی سورتوں کا ہوتا ہے اس لئے وہ مکی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ فلاں سورۃ کا سٹائل ایسا ہے جیسے مدنی سورتوں کا ہوتا ہے اس لئے وہ مدنی ہے۔حالانکہ وہ اتنی عربی بھی نہیں جانتے کہ قرآن کریم کی عبارت سے صحیح نتائج اخذ کرسکیں۔پس عربی زبان سے اتنی کم واقفیت کے باوجود سورتوں کے سٹائل سے ان کے مکی اور مدنی ہونے کا استدلال کرنامحض ایک ڈھکونسلا ہوتا ہے۔سورتوں کے سٹائل کو دیکھ کر مکی اور مدنی قراردینے کا ان کے پاس صرف ایک ہی معیار ہوتا ہے کہ جن سورتوں کی آیات چھوٹی ہوتی ہیں اوراُن میں وزن کا خیال رکھا گیا ہے وہ مکی ہیں اور جن سورتوں کی آیات لمبی ہیں اوران میں وزن کا خیال نہیں رکھا گیا وہ مدنی ہیںحالانکہ ان کے اس معیار کی تغلیط خود قرآن کریم سے ہی ہو جاتی ہے۔چنانچہ سورۃ نوح مکی سورتوں میں سے ہے لیکن اس کی آخری آیت خاصی لمبی ہے۔اسی طرح سورۃ دھر مدنی ہے لیکن اس میں وزن کا خیال رکھا گیا ہے اور اس کی آیات بہت لمبی بھی نہیں ہیں۔اسی طرح سورۃ انفال کے بعض ٹکڑے ایسے ہیںجن کے متعلق اگر سٹائل کو مدّ نظر رکھا جائے تو انہیں مکی قرار دینا پڑے گا۔جیسے یہ آیت کہ لِّيَهْلِكَ مَن