تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 302

سے حسن سلوک کے لئے ڈالی ہیں۔پس ایک مسلم خواہ بظاہر اپنے نفس سے سلوک کر ے یا اپنی بیوی سے سلوک کرے یا اپنے ہمسایہ سے حسن سلوک کرے وہ اسلامی تعلیم کے مطابق عبادت میں شامل ہے۔اور ان امور میں غیرمسلموں کی تعلیم اور ہے اور اسلام کی تعلیم اور۔اس لئے اگر یہ عبادت ہے تو لازماً غیر مسلموں کے ساتھ مسلم اس قسم کی عبادت میں شریک نہیں ہو سکتا۔پانچویں معنے دین کے مَا یُعْبَدُ بِہِ اللہُ کے ہیں۔یعنی دین نام ہے ان تمام طریقوں کا جن کے ذریعے خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے۔مثلاً مسلمانوں میں نماز پڑھنا یا حج بیت اللہ کے لئے جانا اللہ تعالیٰ کی عبادت سمجھا جاتا ہے۔یہ طریق عبادت عربی زبان کے لحاظ سے دین کہلائے گا۔ان معنوں کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی تفسیر یہ ہو گی کہ اے منکرو! تمہارے عبادت کے طریق اور ہیں اور میرے عبادت کے طریق اور ہیں۔چونکہ اسلام کے سارے عبادت کے طریق پُر حکمت ہیں اور اس کے مقابلہ میں جو عبادات غیر مذاہب نے بتلائی ہیں وہ بغیر حکمت کے ہیں۔اس لئے ایک مسلمان اپنے طریقوں کو چھوڑ کر ان کے طریق کو اختیار نہیں کرے گا اور غیر مذاہب والے چونکہ اسلام کو نہیں مانتے اس لئے وہ اسلامی طریق عبادت کو اختیار نہیں کریں گے۔ایک مسلمان تو معقول طور پر ان کی عبادت میں شامل نہیں ہوگا اور دوسرے لوگ ضد اور مخاصمت کی وجہ سے مسلمانوں کی عبادت میں شریک نہیں ہوں گے پس مسلمانوں کی طرف سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا اعلان صحیح اور درست ہے۔چھٹے معنے دین کے اَلْمِلَّۃُ کے ہیں۔اَلْمِلَّۃُ کے ایک معنے شریعت اور مذہب کے ہیں۔اور دوسرے معنے قومیت، قومی نظام اور جماعت بندی کے ہیں۔پس لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے معنے اس مفہوم کے اعتبار سے یہ ہوں گے کہ اے منکرو! تمہاری شریعت اور ہے اور میری شریعت اور۔تمہاری جتھے بندی اور اصولوں پر مبنی ہے اور میرا قومی نظام اور اصولوں پر مبنی ہے۔پس اس تفاوت کی بنا پر ہمارا تمہارا اجتماع فی العبادۃ نا ممکن ہے۔اگر مِلَّۃ کے معنے شریعت اور مذہب کے لئے جائیں تو یہ امر واضح ہے کہ مشرکین کے پاس تو کوئی شریعت تھی ہی نہیں۔سوائے چند رسم و رواج کی باتوں کے۔اور وہ لوگ جو کسی مذہب کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کے پاس جو کچھ شریعت کی باتیں ہیں۔وہ اتنی نامکمل ہیں کہ انسانی زندگی میں پیش آمدہ مشکلات کا حل پوری طرح پیش نہیں کرتیں۔لیکن اس کے خلاف اسلام کی پیش کردہ شریعت ایک مکمل شریعت ہے۔اللہ تعالیٰ سورۂ مائدہ ع۱ میں