تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 26
جس وعدہ میں خدا تعالیٰ کے فرشتے یا قوانین قدرت بھی شریک ہوں وہاں مضمون کی وسعت پر دلالت کرنے کے لئے وہ جمع کا لفظ استعمال کرتا ہے۔یہ بتا نے کے لئے کہ اس کام کے پور اکرنے کے لئے فرشتوں اور قوانینِ قدرت کو بھی حکم دے دیا گیا ہے اور ہم سب مل کر یہ کام کریں گے۔اگر کوئی سوال کرے کہ کیا فرشتوں اور قوانین کی قدرت خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ علیحدہ قسم کی ہے کہ اس کے ساتھ ملنے سے جمع کا لفظ بولا گیا ہے وہ تو خدا تعالیٰ ہی سے طاقت حاصل کرتے ہیں اس لئے ان کے ملنے سے کوئی نئی طاقت تو پیدا نہیں ہو تی پھر جمع کا لفظ کیوںاستعمال ہوا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک خدا تعالیٰ کے نقطۂ نگاہ سے تو کوئی زائد طاقت پیدا نہیں ہو تی۔فرشتے اور قوانین قدرت بھی اس کے تابع ہیں اور وہ کوئی کام براہ راست نہیں کر سکتے۔فرشتے بھی خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں اور قوانین قدرت بھی اسی نے بنائے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ہی یہ قانون مقرر کیا ہے کہ پانی غرق کرتا ہے یا پانی آگ کو بجھادیتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ پانی کے مل جانے سے کوئی نئی طاقت پیدا نہیں ہو تی یا اس نے آگ کے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ جلاتی ہے یا کھانا پکاتی ہےیہ بھی ایک قدرتی چیز ہے خدا تعالیٰ کو اس سے کوئی زائد طاقت حاصل نہیں ہو جاتی۔لیکن دنیا میں کئی قسم کے لوگ ہیں اور وہ سب قرآن کریم کے مخاطب ہیں۔دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں لیکن فرشتوں کو نہیں مانتے اور وہ بھی ہیںجو خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں اور فرشتوں کو بھی مانتے ہیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا رسول یا فرشتوں کا مؤیّدوجود نہیں مانتے اور وہ بھی ہیںجو نہ خدا تعالیٰ کومانتے ہیں اور نہ فرشتوں کو۔ہاں ایک قانون قدرت کو ضرور تسلیم کرتے ہیں۔چونکہ اس آیت میں بیان کردہ مضمون پر خاص زور دینا مقصود تھا اس لئے ان سب قسم کے لوگوں کی تسلی کا طریق اختیارکیا گیا۔جو لوگ خدا تعالیٰ کومانتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنا کوئی معمولی کام نہیں عام شریف آدمی بھی ایسا نہیں کرتا انہیں اس طرف توجہ دلا دی کہ محمد رسول اللہ اللہ تعالیٰ کو گواہ رکھ کر اس کی طرف سے یہ دعویٰ کر رہا ہے۔جو لوگ خدا تعالیٰ سے زیادہ اخلاقی دلائل کو تسلیم کرتے ہیں ان کو مدّ ِنظر رکھ کر فرشتوں کے وجود کو ساتھ شامل کر لیا کہ نفس لوّامہ اور ناطقہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کی تصدیق کر رہا ہے اور جو لوگ خدا تعالیٰ اور فرشتوں دونوں کے منکر ہیں ان کے لئے قانون قدرت کو شامل کر لیا گیا کہ قانونِ قدرت بھی اس کی تائید کر رہا ہے کہ یہ شخص بہت کچھ برکتیں پانے والا ہے۔پس چونکہ تین گواہوں کو اس وعدہ کے پو را ہونے کی تائید میں پیش کیا گیا تھا۔اس لئے بجائے اِنِّیْ یعنی ضرور میں نے کے اِنَّا یعنی ’’ضرور ہم نے‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔اس جگہ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وعدہ نے تو کسی آئندہ وقت میں پورا ہو نا تھا پھر ان تین گواہوں کے ذکر سے کون سا