تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 290
گیا کہ اے منکرو! لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔تمہاری ظالمانہ حکومت تمہی کو سجتی ہے۔ہم تو ظلم و استبداد کو جائز نہیں سمجھتے۔بلکہ اس کو مٹانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔تمہاری حکومتوں میں مذہبی آزادی نہیں اور مسلمان ایسی حکومتوں سے نہ صرف خود آزاد ہونا چاہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی آزاد کرائیں گے اور ایسی حکومت قائم کریں گے جو ہر قسم کی خیر و برکت اپنے اندر لئے ہوئے ہو گی۔چنانچہ اسلام کے ذریعہ جو حکومت قائم ہو ئی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی اور یہودی خود چاہتے تھے کہ اسی حکومت کے ماتحت رہیں۔تاریخوں میں آتا ہے کہ ملک شام کی فتوحات میں جب حمص پر قبضہ کے بعد دوبارہ دشمن کے حملہ کا خطرہ ہوا۔تو مسلمانوں نے حمص کو خالی کر دیا اور وہاں کے عیسائی باشندوں سے جو جزیہ لیا گیا تھا وہ سب کا سب واپس کر دیا۔اور ان کو کہہ دیا کہ یہ رقم ہم نے اس معاہدہ کے ماتحت لی تھی کہ مسلمان تمہاری حفاظت کریں گے۔لیکن اس وقت ہماری ایسی نازک حالت ہے کہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے۔اس لئے تمہیں تمہاری رقم واپس کی جاتی ہے۔چنانچہ کئی لاکھ کی رقم جو وصول کی گئی تھی واپس کر دی گئی۔عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو واپس لائے۔یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ توراۃ کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔(فتوح البلدان بلاذری یوم الیرموک صفحہ ۸۷) پس ان واقعات سے اور ان جیسے دوسرے واقعات سے جو تاریخوں میں ملتے ہیں یہ ثابت ہے کہ اسلامی حکومت لوگوں کے دلوں کو فتح کرتی تھی۔ملک سے ظلم و استبداد کو ختم کرتی تھی۔مذہبی آزادی برقرار رکھتی تھی۔اپنے معاہدوں کی پابندی کرتی تھی۔جس کی وجہ سے وہ ملک امن کا گہوارہ بن جاتا تھا۔اور ملکوں کے باشندے دل سے اس حکومت کو چاہتے تھے۔اسلامی حکومت کے گیارہ اصول پھر اسلام نے حکومت کے جو اصول پیش کئے ہیں۔وہ اتنے اعلیٰ اور ارفع ہیں کہ جو حکومت ان اصولوں پر قائم ہو گی وہی دنیا کی ترقی اور امن کی ضامن ہو سکتی ہے۔چنانچہ وہ اصول یہ ہیں:۔۱۔پہلا اصل اسلام نے حکومت کا یہ پیش کیا ہے کہ حکومت انتخابی ہو اور حکومت کی بنیاد اہلیت پر ہو۔۲۔دوسرا اصل اسلام نے حکومت کا یہ پیش کیا ہے کہ حکومت کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے بلکہ ایک امانت ہے۔گویا اسلام کے نزدیک نسلی اور موروثی بادشاہت نہیں ہے۔۳۔حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی عزت، جان اور مال کی حفاظت کرے۔۴۔حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ افراد اور اقوام کے درمیان عدل کرے۔