تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 289
مطابق ہو گی۔پھر مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ کے الفاظ میں یہ بھی بتا دیا کہ خلافت درحقیقت خدا تعالیٰ کی نمائندگی میں ہوتی ہے اور خدا کی صفات کو ظاہر کرنے والی ہوتی ہے۔جو اس کا انکار کرتا ہے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ سے عہد مودّت توڑتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے بعد خلافت ہوگی یعنی ایسے وجود ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کوجاری رکھنے والے ہوں گے۔لیکن ان کے بعد یہ حالت بدل جائے گی۔اور دوسری قوموں کی نقل میں مسلمان بھی استبدادی حکومت کے شائق ہو جائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ دوبارہ صحیح خلافت کو قائم کرے گاجو خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے والی ہو گی چنانچہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:۔قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَآءَ اللہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْـھَاجِ النُّبُوَّۃِ مَاشَآءَ اللہُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا مَاشَآءَ اللہُ اَنْ یَّکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیَّۃً فَیَکُوْنُ مَاشَآءَ اللہُ اَنْ یَّکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللہُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ۔(مشکوٰۃ کتاب الرقاق باب الانذار و التـحذیر الفصل الثالث ) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ عرصہ جب تک اللہ تعالیٰ چاہے نبوت کا زمانہ رہے گا۔پھر خلافت نبوت کے طریق پر قائم ہو گی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کا منشاء ہو گا۔پھر وہ ختم ہو جائے گی اور بادشاہت کا دروازہ کھل جائے گا۔اوریہ کچھ عرصہ تک جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کھلا رہے گا۔پھر اس کے بعد جابر حکومتیں شروع ہو جائیں گی۔پھر اللہ تعالیٰ ان کو ختم کر دے گا اور اس کے بعد دوبارہ نبوت کے طریق پر خلافت قائم ہو گی۔چنانچہ یہ وعدے پورے ہوئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مسلمانوں کو حکومت مل گئی اور آپ کے بعد کچھ عرصہ تک یہ حکومت قائم رہی۔لیکن بعد ازاں یہ حکومت عام دنیوی حکومتوں کی طرح بن گئی۔اب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے اور پیشگوئی کے مطابق آپ کے ذریعہ ایسی حکومتوں کی بنیاد پڑے گی جو بجائے دنیا کی طالب ہونے کے روحانی اور اخلاقی اقدار کو قائم کرنے کی کوشش کریں گی اور ظلم و استبداد کا خاتمہ ہو جائے گا۔غرض یہ سب وعدے چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھے اس لئے بہرحال انہوں نے پورا ہونا تھا اور مسلمان ان پر پورے وثوق و یقین سے قائم تھے اور اسی کے پیشِ نظر ان کو ابتدائی زمانہ میں ہی یہ اعلان کرنے کا حکم دے دیا