تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 25
حکمت یہ ہے کہ جس نعمت کا یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وعدہ کیا گیا تھا وہ بہت بڑی تھی اور انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی حالت کو دیکھ کر حیران ہو تا تھا کہ کیا یہ چیز آپ کو مل جائے گی اس لئے اِنَّ کے لفظ سے اس وعدہ کے یقینی ہونے پر زور دیا گیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گمنام فرد تھے، جب دنیا میں آپ کی کوئی حیثیت نہ تھی اور جب آپ کو ماننے والے صرف دس بارہ انسان تھے اس وقت خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کیا ہے۔ایک ایسی بات ہے جو بالکل دور از قیاس معلوم ہو تی تھی۔ہر شخص حیران ہوتا تھا کہ کیا وہ چیز جس کا انہوں نے دعویٰ کیا ہے انہیں مل جائے گی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اِنَّ کا لفظ استعمال فرما کر اس وعدہ کے یقینی اور قطعی ہونے پر زور دیا۔اسی طرح اَعْطَيْنَا جوماضی کا صیغہ ہے یہ بھی تاکید کے لئے ہے کیونکہ ماضی جب مضارع کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے تو وہ بھی تاکید کے معنے دیتی ہے۔جب کوئی چیز آئندہ ملنے والی ہو اور اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ وہ چیز ہم نے دے دی تو اس کا مفہوم یہی ہو تا ہے کہ وہ چیز ہم ضرور دے دیں گے جیسا کہ ہمارے ہاں ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے میں آپ کی لڑکی اپنے لڑکے لئے مانگنے آیا ہوں۔تو وہ بعض دفعہ تو یہ کہہ دیتا ہے کہ اچھا میں یہ رشتہ کر دوں گا اور بعض دفعہ کہتا ہے بس میں نے اپنی لڑکی دے دی۔شادی تو بعد میں ہو تی ہے مگر الفاظ وہ یہ استعمال کرتا ہے کہ میں نے لڑکی دے دی۔جس کے معنے یہ ہو تے ہیں کہ میرا آپ کو رشتہ دینا بالکل قطعی اور یقینی ہے۔غرض ماضی کا صیغہ جب مضارع کے معنوں میں استعمال ہو تا ہے تو وہ تاکید کے معنے دیتا ہے۔اس سے پہلے اِنَّ کا لفظ بڑھا کر بار بار زور دے دیا ایک طرف ماضی کا صیغہ استعمال کر کے اس میں تاکید کے معنے پیدا کئے گئے اور دوسری طرف اِنَّ کا لفظ لا کر اس میں تاکید کے معنے پیدا کئے گئے اور اس طرح بتا دیاکہ گو یہ چیز ملنی تو آئندہ زمانہ میں ہے مگر یہ وعدہ ہمارا ایسا یقینی ہے کہ یوں سمجھو کہ ہم وعدہ نہیں کر رہے بلکہ ایک واقعہ شدہ امر کا ذکر رہے ہیں ان دو تاکیدوں کے علاوہ جب ہم اس امر کو دیکھیں کہ جس کی زبان سے یہ وعدہ کروایا گیاہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے تو عبارت میں اور بھی زور پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ جو بات کہے اسے یقیناً پورا کرسکتا ہے اور یہ عذر بھی نہیں ہوسکتا کہ وعدہ کر نے والے نے وعدہ تو پختہ کیا تھا مگر مجبوریوں کی وجہ سے پورا نہ کر سکا۔دوسرا سوال ’’نا‘‘ کے متعلق پیدا ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جمع کا لفظ یہاں کیوں استعمال فرمایا؟ اس کے متعلق یادرکھنا چاہیے کہ یہاں جمع کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ یہ وعدہ اپنے اندر بڑا تنوّع رکھتا ہےاور اس میں خدا تعالیٰ کے ساتھ ملائکہ اور اس کے قوانین قدرت کی مدد کی طرف بھی اشارہ ہے اور قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ