تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 285
بِهٖ (الانعام:۵۷،۵۸) یعنی اے نبی اعلان کر دو کہ مجھے تمہارے بتوں کی عبادت کرنے سے روکا گیا ہے۔تم محض اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان کی عبادت بجا لاتے ہو۔تمہارے پاس دلیل کوئی نہیں اور اگر میں بھی تمہارے پیچھے چلوں تو میں بھی سیدھے راستے سے بھٹک جاؤں۔اے نبی اعلان کر دو کہ میں نے تو جس راستے کو اختیار کیا ہے یعنی توحید کو اس کے لئے میرے پاس کھلے کھلے دلائل ہیں لیکن تم ان کا انکار کر رہے ہو۔پس اسلام تو دلائل کو پیش کرتا ہے اور ان دلائل کے پیش کرنے کے بعد کہتا ہے۔مَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ (الکہف:۳۰) کہ جس کی سمجھ میں یہ دلائل آتے ہیں وہ اسلام کی پیش کردہ تعلیم کو مان لے اور جس کی سمجھ میں وہ دلائل نہیں آتے، بےشک وہ اپنی اختیار کردہ راہ پر قائم رہے۔کفار کے نرغہ میں جب کوئی مسلمان پھنس جاتا اس کو زبردستی اقرار کرانے کی کوشش کرتے کہ وہ خدائے واحد کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کرے گا۔لیکن قرآن کریم یہ کہتا ہے وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ (التوبۃ:۶) کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں طاقت دے اور پھر کوئی مشرک تمہارے ہاں پناہ گزین ہو تو اس کو پناہ دو اور اس کی بہترین مہمانی اس طور پر کرو کہ قرآنی تعلیم کو اس کے سامنے پیش کرو۔پھر اس پر اس کو منوانے کے لئے کوئی جبر نہ کرو بلکہ اس کے اپنے علاقہ میں جہاں اسے امن حاصل ہے پہنچا دو۔مسلمان مذہبی آزادی قائم رکھنے پر پوری طرح عامل تھے۔چنانچہ مدینہ میں جب اسلام پھیلا اور مسلمانوں کو طاقت حاصل ہوئی تو انہوں نے جبر و اکراہ سے کام نہیں لیا۔مدینہ میں یہ طریق تھا کہ کسی اوسی یا خزرجی(مشرکین مدینہ) کے ہاں اگر اولاد نرینہ نہ ہوتی تو وہ منت مانتاتھا کہ اگر اس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہو تو وہ اسے یہودی بنا دے گا۔اس طرح اوس اور خزرج کے کئی بچے یہودی بن گئے۔مسلمانوں کی طاقت کے زمانہ میں جب بنو نضیر یہودی اپنی شرارتوں کی وجہ سے مدینہ سے جلا وطن کئے گئے تو ان میں وہ بچے بھی تھے جو انصار کی اولاد تھے اور انصار نے انہیں روک لینا چاہا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ کی آیت کے ماتحت ایسا کرنے سے روک دیا۔(السیرۃ الـحلبیۃ فی ذکر غزوۃ بنی النضیر و تفسیر الخازن زیر آیت لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ)پھر مدینہ میں نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تو ان کی عبادت کا وقت آنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے اندر ان کو عبادت بجا لانے کی اجازت دےدی۔اور جب بعض صحابہ ؓ نے روکنا چاہاتو آپ نے ان صحابہ کو منع فرما دیا۔چنانچہ ان عیسائیوں نے مشرق رُو ہو کر عین مسجد نبوی میں اپنی عبادت کے مراسم ادا کئے۔(شرح زرقانی حالات وفد نجران)