تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 284

تاکہ وہ کروٹ نہ بدل سکیں۔چنانچہ وہ کوئلے اسی طرح جل کر ان کے نیچے ٹھنڈے ہو گئے اور ان کا چمڑہ اسی طرح ہوگیا جس طرح بھینسے کا ہوتا ہے۔(الطبقات الکبرٰی ذکر خباب بن الارت رضی اللہ عنہ) الغرض مسلمانوں پر طرح طرح کے مظالم ہوتے تا وہ توحید کو چھوڑ کر بتوں کی عبادت کریں۔حتی کہ ان کو اپنی جائیدادوں سے محروم ہو کر اور اپنے محبوب شہر مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا اور پھر بھی مشرکین نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔بلکہ لشکر اکٹھے کر کے ان پر حملہ آور ہو تے رہے۔حتی کہ ایک کثیر تعداد مسلمانوں کی جنگوں میں شہید ہو گئی۔پس یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ مشرکین اپنے طریق عبادت کو دوسروں کے گلے زبردستی منڈھنا چاہتے تھے۔اور اپنی اکثریت اور طاقت کو اپنے حق پر ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔لیکن مسلمان یہ کہتے تھے کہ عبادت کے منوانے اور اس پر کاربند کروانے میں زبردستی نہیں ہونی چاہیے۔بلکہ پوری آزادی دی جانی چاہیے اور دلائل سے قائل کرنا چاہیے کہ کیوں عبادت کا فلاں طریق اختیار کیا جائے۔اگر مخاطب کی سمجھ میں وہ بات آجائے تو اس کو تسلیم کر ے وگرنہ چھوڑ دے۔اور مسلمان اپنے مذہب کی تبلیغ کے ضمن میں اسی طریق کو اختیار کرتے تھے۔بتوں کی عبادت کے خلاف جو وعظ ہوتا اس میں یہی بات بیان کی جاتی کہ یہ پتھر کے بت تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو۔یہ نہ کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور نہ دعا کو قبول کرتے ہیں۔پس ان کی عبادت کرنے کا کیا فائدہ۔عبادت تو اس ہستی کی کرنی چاہیے جو دعاؤں کو سنے۔تکلیف کو دور کرے اور احسان کرنے اور نفع پہنچانے پر قادر ہو۔اور ایسی ہستی سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔مسلمان قرآن کریم کے اس حکم پر پوری طرح عامل تھے کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ(البقرۃ:۲۵۷) یعنی عبادت کے معاملہ میں جبر نہیں ہونا چاہیے بلکہ دلائل سے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ قرآن کریم اس تعلیم کو بار بار پیش کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :۔لِيَـهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ (الانفال:۴۳) یعنی جنگ بدر میں جو معجزات ہم نے دکھائے وہ محض اس لئے تھے تاکہ جو ہلاک ہو وہ صرف تلوار سے ہلاک نہ ہو بلکہ دلیل سے ہلاک ہو۔اور جو زندہ ہو وہ صرف تلوار سے بچ کر زندہ نہ ہو بلکہ دلیل سے زندہ ہو۔گویا اس آیت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ شکست و فتح دلائل کے رو سے ہونی چاہیے اور اصل شکست یہی ہے کہ انسان کے پاس دلائل نہ ہوں۔اور اصل جیت یہی ہے کہ انسان کے پاس دلائل ہوں اور وہ دوسروں کو قائل کرلے۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ۔قُلْ اِنِّيْ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَ كَذَّبْتُمْ