تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 283
کے طریقوں پر دوسروں کو کاربند کرنے کے لئے سوائے اکراہ اور جبر کے کچھ نہیں۔اگر ان کے معبودوں کی عبادت سے کوئی سرتابی کرتا ہے یا اس سے روگردانی اختیار کرتا ہے تو وہ اس کو جبر اور اکراہ اور ڈنڈے کے زور سے اپنے معبودوں کی طرف لانا چاہتے ہیں اور یہ طریق کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔خواہ وقتی طور پر انسان جبر کے آگے سر جھکا دے۔لیکن جب دل سے اس کا مطیع نہیں ہوتا تو ہر موقعہ پر وہ اس قید سے آزاد ہونے کے لئے پوری جدوجہد کرتا ہے۔انسان اس چیز کے سامنے صحیح طور پر جھکتا ہے جس کی دلیل اس کی سمجھ میں آجائے۔اور جب وہ کسی چیز کو دلیل سے مانتا ہے تو پھر اس کا دل اور دماغ تسلی پا جاتا ہے لیکن منکرین اسلام اس کے خلاف اپنے معبودوں کی عبادت منوانے اور اسے رائج کروانے کے لئے کوئی ایسی دلیل تو پیش نہیں کرتے جو انسانی دل و دماغ کو مطمئن کر دے۔ہاں ان کے پاس صرف ایک ہی طریق ہے کہ جو ان کے مذہب سے ذرا بھی ہٹا اس کو مارا پیٹا اور ذلیل کرنے کی کوشش کی اور اس کے آزار کے درپے ہو گئے اور اگر وہ ان کے سامنے نہ جھکا تو اس کی جان لینے کے منصوبے کرنے لگے۔چنانچہ ابتدائے اسلام میں جب مسلمان پورے طورپر غیر مسلموں کے رحم پر تھے۔ان کے ساتھ یہی سلوک کیا جاتا تھا۔تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ مسلمانوں پر جو مظالم قریشِ مکہ کرتے تھے۔وہ محض اس لئے تھے کہ وہ ان بتوں کی عبادت کی طرف پھر سے رجوع کریں جن کو چھوڑ کر وہ توحید اختیار کر چکے ہیں۔چنانچہ بلال بن رباح جو امیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بتوں کی عبادت کو ترک کرکے خدائے واحد کی عبادت کا اقرار کیا۔تو اُمیہ ان کو عین دوپہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور مکہ کا پتھریلا میدان بھٹی کی طرح تپتا تھا، باہر لے جاتا تھا اورننگا کر کے زمین پر لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر ان کے سینے پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزّٰی کی پرستش کرو اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے علیحدہ ہو جاؤ۔ورنہ اسی طرح عذاب دے دے کرمار دوں گا۔بلالؓ زیادہ عربی نہ جانتے تھے۔ان کے ظلم کے جواب میں وہ صرف اتنا کہتے اَحَد۔اَحَد۔یعنی اللہ ایک ہی ہے۔اللہ ایک ہی ہے۔امیہ یہ جواب سن کر اور تیز ہو جاتا اور ان کے گلے میں رسی ڈال کر انہیں شریر لڑکوں کے حوالہ کر دیتا اور وہ ان کو مکہ کی پتھریلی گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے۔جس سے ان کا بدن خون سے تربتر ہوجاتا مگر ان کی زبان پر سوائے اَحَد۔اَحَد کے کوئی اور لفظ نہ ہوتا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان پر یہ جو ر و ستم دیکھ کر ان کو خرید لیا اور آزاد کر دیا۔( البدایۃ والنـھایۃ باب امر اللہ رسولہ علیہ الصلاۃ والسلام بابلاغ الرسالۃ) اسی طرح خبابؓبن الارت جو پہلے غلام تھے پھر آزاد ہو گئے تھے۔آہنگری کا کام کرتے تھے اور وہ مسلمان ہو گئے تھے۔قریش مکہ نے ایک دفعہ ان کو ان کی بھٹی کے کوئلوں پر الٹا لٹا دیا اور ایک شخص ان کی چھاتی پر چڑھ گیا۔