تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 282

اس پر عمل کرنے سے بشاشت قلب قائم رہتی ہے اور صحیح الفکر انسان کا دل خود یہ چاہتا ہے کہ وہ ان پیش کردہ طریقوں پر گامزن ہو۔کیونکہ احکام کے ساتھ ساتھ ان کی علّت اور وجہ بھی بتا دی گئی ہے اور یہ بتا دیا گیا ہے کہ ان احکام پر چلنے والے کو خدا تعالیٰ کی رضا کے علاوہ کون کون سے قومی اور ملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔اس کے مقابل پر دوسرے مذاہب کے متبعین کے پاس جو احکام عبادت ہیں ان کی تعمیل میں نہ تو بشاشت قلب قائم رہ سکتی ہے اور نہ انسان خوشی خوشی ان کو اختیار کر سکتا ہے۔کیونکہ ان احکام کی علت اور وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ ان احکام پر چلنے والوں کو قومی یا ملی طور پر کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور جب یہ باتیں احکام میں نہ ہوں تو ایک عقل اور فکر سے کام لینے والا انسان ان احکام عبادت کو کیسے اختیار کر سکتا ہے۔سوائے اس کے کہ عقل اور قوت فکر کو جواب دے دے۔پس ایک مسلمان اعلیٰ درجہ کے احکام عبادت کی موجودگی میں غیر معقول احکام کو کیسے اختیار کر سکتا ہے اور اپنے بہترین دین کو چھوڑ کر ناقص ادیان کی اتباع کا خیال بھی ذہن میں کیسے لا سکتا ہے اور اسی بات کو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ میںپیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔لفظ دِیْن کے دوسرے معنے اَلسُّلْطَانُ وَ الْمُلْکُ وَالْحُکْمُ کے ہیں۔اَلسُّلْطَانُ کے معنے لغت میں اَلْـحُجَّۃُ وَالتَّسَلُّطُ کے لکھے ہیں۔یعنی دلیل اور غلبہ اور الْمُلْکُ وَالْـحُکْمُ کے معنے بادشاہت کے ہیں۔(اقرب) ان معنوں کے اعتبار سے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی یہ تشریح ہو گی کہ (۱)اے منکرو اپنے معبودوں کی عبادت منوانے اور اپنی عبادت کے طریقوں پر دوسروں کو کاربند کرنے کے لئے تمہارے دلائل اور قسم کے ہیں اور توحید کو قائم کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کو دنیا میں راسخ کرنے کے لئے میرے دلائل اور قسم کے ہیں۔(۲)تمہارے تسلط کا نتیجہ اور ہے اور میرے تسلط کا نتیجہ اور۔(۳)تمہارا طریق حکومت اور ہے اور میرا طریق حکومت اور۔تمہارے اصول حکومت اور ہیں اور میرے اصول حکومت اور۔گویا دین کے ان تینوں معنوںمیں تین اور مضبوط دلائل اس امر کے مہیا کئے گئے ہیں کہ کیوں ایک سچا مومن غیر مسلم کے ساتھ عبادت میں اشتراک نہیں کر سکتا۔اورکیوں وہ ہر موقعہ پر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہے کہ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ یعنی میں تمہارے ساتھ متحد فی العبادۃ نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے دین کے ایک معنے حجّت کے بھی ہیں۔ان معنوں کو ملحفوظ رکھتے ہوئے آیت لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی تشریح یہ ہو گی کہ اسلام کے منکرین کے پاس اپنے معبودوں کی عبادت منوانے اور اپنی عبادت